قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 29 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 29

29 اس کے اپنے عمل کے مطابق اس کو بدلہ مل جائے گا۔دین کے معاملہ میں کوئی جبر نہیں اب میں چند آیات قرآنی اس مضمون کی پیش کرتا ہوں کہ دین کے معاملہ میں جبر سے کام لینا نا جائز ہے اور اللہ تعالیٰ حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:۔قَالَ الْمَلَا الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا مِنْ قَوْمِهِ لَنُخْرِجَنَّكَ يُشْعَيْبُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَكَ مِنْ قَرْيَتِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا قَالَ اَوَلَوْ كُنَّا كُرِهِينَ (الاعراف: 89) شعیب کی قوم میں جو لوگ رودار اور مغرور تھے بولے کہ اے شعیب ہم تجھ کو اور جو تیرے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کو اپنی بستی سے نکال دیں گے یا یہ ہوگا کہ تم لوگ ہمارے مذہب میں لوٹ آؤ گے۔شعیب نے کہا کیوں جی! اگر ہم تمہارے دین کو دل سے نا پسند کرتے ہوں پھر بھی زبر دستی تمہارے مذہب میں آملیں؟ اس آیت کریمہ میں خدا تعالیٰ کا ایک پاک نبی مذہب کی تبدیلی کے متعلق ایک اصول بیان کرتا ہے۔جب حضرت شعیب علیہ السلام اور ان کی جماعت سے ان کی بستی کے ذی اقتدار رئیس اس امر کا مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے آبائی مذہب میں واپس لوٹ آویں ورنہ وہ ان کے حق میں یہ حکم جاری کریں گے کہ ان کو بستی سے نکال دیا جاے۔تو حضرت شعیب علیہ السلام ان عمائد سے ایک سوال کرتے ہیں وہ ان سے پوچھتے ہیں۔اگر ہم دل میں تمہارے دین کو نا پسند کرتے ہوں تو کیا پھر بھی ہم اس میں اپنی مرضی کے خلاف اکراہ و جبر داخل ہو سکتے ہیں؟ یہاں حضرت شعیب اپنی قوم کے مقابل میں ایک عقلی دلیل پیش کرتے ہیں۔وہ فرماتے ہیں کہ مذہب کا تعلق تو دل سے ہے اگر ہمارے دل تمہارے