قتل مرتد اور اسلام — Page 257
257 میں متعین تھے اور یہ فتنہ اسود عنسی کی وجہ سے ہوا جس کی مختصر کیفیت میں اوپر بیان کر چکا ہوں۔پس یہ سیاسی رنگ کا ارتداد حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے وقت میں ملک یمن میں واقع ہو چکا تھا اور اسود عنسی کے قتل کے بعد بھی اس کی انگار یاں بالکل نہیں بجھی تھیں کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے ساتھ معاوہی آگ پھر شعلہ زن ہوئی۔پس یہ ایک ثابت شدہ امر ہے کہ حضرت معادؓ کی موجودگی میں یمن میں اسی رنگ کا فتنہ نہایت خطرناک طور پر نمودار ہو گیا تھا۔پس ایسے زمانہ میں جبکہ مرتدین یمن میں اسلامی حکومت کے خلاف جنگ کے لئے کھڑے ہو گئے تھے اگر حضرت معاذ نے ایک مرتد کو قتل کرنے کا حکم دیا تو اس سے اسی نتیجہ کی تائید ہوتی ہے کہ وہ مرتد حربی تھا۔اور ایسے حالات کے ماتحت اس واقعہ سے کوئی شخص قطعی اور یقینی طور پر یہ نتیجہ نہیں نکال سکتا کہ اسلام میں محض ارتداد کی سزا قتل ہے۔چہارم۔پھر میں کہتا ہوں کہ اسی راوی کی زبان سے اللہ تعالیٰ نے بعض ایسے الفاظ نقل کروائے ہیں جو اس بات کی شہادت دے رہے ہیں کہ حضرت معادؓ اور حضرت ابوموسیٰ اشعری نے محض ارتداد کی وجہ سے اُس شخص کو قتل نہیں کیا کیونکہ اسی حدیث میں لکھا ہے کہ رخصت کرتے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو اصولی رنگ میں یہ نصیحت فرمائی تھی یسرا ولا تعسرا وبشرا ولا تنفّرا، یعنی دین کے معاملہ میں تم لوگوں کو آسانی اور سہولت دو۔اُن پر تنگی نہ ڈالو اور لوگوں کو بشارت اور خوشخبری دو اور ایسا طریق اختیار کرو جس سے لوگ اسلام کی طرف رغبت کریں اور لوگوں کو اسلام سے متنفر نہ کرو۔اس وصیت مقدسہ میں صاف یہ تعلیم دی گئی کہ دین کے معاملہ میں جبر سے کام نہ لینا۔کیونکہ جبر کا استعمال اس وصیت کے بالکل مخالف ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صحابیوں کو رخصت کرتے وقت فرمائی۔اور حامیان قتل مرتد اس کو تسلیم کرتے ہیں کہ قتل مرتد ایک جبر کا طریق ہے اس طریق کا استعمال اُس وصیت کے خلاف تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو رخصت کرتے وقت فرمائی اور ہم ایک آن کے لئے بھی یہ