قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 256 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 256

256 اُس کی وجہ نہ تھی۔کیونکہ میں قرآن شریف کی آیات سے ثابت کر چکا ہوں کہ اسلام میں محض ارتداد کے لئے کوئی دنیوی سزا مقرر نہیں کی گئی اور کسی کو محض ارتداد کے لئے قتل کرنا قرآن شریف کی صریح تعلیم کے خلاف ہے۔دوم۔حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کا یہ فرمانا کہ اس شخص کا قتل کرنا نہ صرف قرآن شریف بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے بھی مطابق ہے اس سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اس شخص کو محض ارتداد کے لئے قتل نہیں کیا گیا کیونکہ جیسا میں ثابت کر چکا ہوں اس امر کے متعلق جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے مطابق حسب اصول فقہاء ومحد ثین کی نظر جاتی ہے تو اُس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ اسی مرتد کے قتل کا حکم ہے جو محارب ہو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بھی اسی کے مطابق تھا کیونکہ آپ نے کبھی کسی مرتد کو محض ارتداد کے لئے قتل نہیں کروایا بلکہ انہی کو قتل کروایا جو محارب تھے۔اور اُن میں سے بھی بعض کو بعض معزز صحابہ کی سفارش پر معاف فرما دیا جو صریح ثبوت اس امر کا ہے کہ ارتداد کے لئے قتل شرعی حد نہیں ہے اور نیز ثابت ہے کہ بعض مرتدین کو آپ نے با وجود قدرت کے قتل نہیں کروایا۔پس سنت نبوی سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ محض ارتداد کے لئے قتل کی سزا شریعت نے مقرر نہیں کی اور یہ کہ جن مرتدین کو قتل کیا گیا اُن کو ارتداد کی وجہ سے نہیں بلکہ محاربہ کی وجہ سے قتل کیا گیا اور یہی قرآن شریف کی تعلیم ہے۔پس حضرت معاذ کا یہ فرمانا کہ اس شخص کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے مطابق قتل کیا جاتا ہے یہی ظاہر کرتا ہے کہ اس کو حربی ہونے کی وجہ سے قتل کیا گیا۔سوم۔یمن کے اُس وقت کے حالات بھی اسی امر کی تائید کرتے ہیں کہ اس کو محض ارتداد کی وجہ سے قتل نہیں کیا گیا کیونکہ ہر ایک تاریخ دان اس امر سے بخوبی واقف ہے کہ جو ارتداد بقیہ ملک عرب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر واقع ہوا وہ ملک یمن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں انہی دنوں میں پیدا ہو گیا تھا جبکہ حضرت معاذ یمن