قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 255 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 255

255 میں کہتا ہوں کہ یہ اُسی قسم کا قتل ہے جس طرح حضرت ابوبکر کے عہد میں مرتدین کو قتل کیا گیا اور اس کے دلائل حسب ذیل ہیں۔ا۔حضرت معاذ فرماتے ہیں کہ اس شخص کا قتل کرنا اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہے اللہ تعالیٰ کی کتاب ہمارے پاس موجود ہے۔اُس میں لکھا ہے کہ کسی شخص کو صرف دو صورتوں میں قتل کرنا جائز ہے تیسری کوئی صورت نہیں۔اوّل قصاص میں۔دوم فساد فی الارض میں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا (المائدة: 33) جو کسی شخص کو بغیر اس کے کہ اس نے قتل کیا ہو یا ملک میں فساد پھیلا یا ہو قتل کر دے تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کر دیا۔فساد فی الارض کی ایک صورت آیت مذکورہ بالا سے اگلی آیت میں بیان فرمائی گئی ہے جو یہ ہے:۔إِنَّمَا جَزَ وُا الَّذِينَ يُحَارِبُوْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَنْ تُقَتَلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلَافٍ أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْأَرْضِ (المآئدة: 34) جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور فساد کی غرض سے ملک میں جنگ کی آگ بھڑ کانے کے لئے دوڑتے پھرتے ہیں ان کی مناسب سزا یہی ہے کہ ان میں سے ایک ایک کو قتل کیا جائے یا صلیب پر لٹکا کر مارا جائے یا ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں مخالفت کی وجہ سے کاٹ دیئے جائیں یا انہیں ملک سے نکال دیا جائے۔پس حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کا یہ فرمانا کہ اس شخص کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق قتل کروایا جاتا ہے ظاہر کرتا ہے کہ اُس کے قتل کی وجہ فساد فی الارض یا محاربہ تھی محض ارتداد