قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 254 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 254

254 اور سیاسی بے چینی کا زمانہ تھا اور جیسا کہ تاریخ ثابت کر رہی ہے کہ اس زمانہ میں ارتداد کے معنے صرف ارتداد نہ تھے مگر اس زمانہ کے مرتد سب حربی مرتد ہوتے تھے جو اسلام کے سیاسی دشمن بن جاتے تھے اور اسلام کو ان سے اسی طرح کا خطرہ ہوتا جس طرح دوسرے دشمنوں سے۔اب میں خدا تعالیٰ کے فضل و رحم سے صحابہ کرام اور خلفائے راشدین کے عہد کے حالات سے بھی فارغ ہو گیا۔اور ناظرین نے دیکھ لیا کہ خلفائے راشدین نے مرتدین سے اُن کے ارتداد کی وجہ سے قتال نہیں کیا اور نہ کسی مرتد کو محض ارتداد کی وجہ سے قتل کیا بلکہ اُن کا قتال بغاوت کو روکنے اور فتنہ و فساد کو دُور کرنے اور اسلام اور اہلِ اسلام کی حفاظت کے لئے تھا۔اس حصہ مضمون کو ختم کرنے سے پہلے میں ایک اور روایت پر بھی نظر کرنا ضروری سمجھتا ہوں جو قتل مرتد کے حامیوں نے اپنے دعوی کے ثبوت میں پیش کی ہے۔وہ روایت یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما کو یمن کی طرف بھیجا اور ہر ایک کے لئے الگ الگ علاقہ مقرر فرما دیا۔اور اُن کو چلتے وقت یہ نصیحت فرمائى يسرا ولا تعسرا وبشرا ولا تنفرا“ یعنی تم دونوں کا فرض ہے کہ تم لوگوں کو آسانی دو اور تنگی نہ دو۔اور لوگوں کو بشارت دو اور دین کی طرف محبت سے راغب کرو اور لوگوں کے دل میں دین سے نفرت پیدا نہ کرو۔دونوں اپنے اپنے علاقہ میں پھرتے تھے اور جب اُن میں سے ایک اپنے دورہ میں دوسرے کے قریب جاتا تو اُس سے ملاقات کرتا۔ایک دن جب حضرت معادؓ حضرت ابو موسیٰ اشعری سے ملنے کے لئے آئے تو وہاں ایک شخص دیکھا جس کو حضرت ابو موسیٰ اشعری نے باندھ کر اپنے پاس بٹھایا ہوا تھا۔حضرت معاذ نے دریافت کیا یہ شخص کون ہے۔جواب دیا گیا کہ یہودی تھا۔پہلے مسلمان ہوا تھا پھر مرتد ہو گیا۔حضرت معادؓ نے فرمایا کہ میں اپنی سواری سے نہیں اتروں گا جب تک تم اس کو قتل نہ کر دو اور فرمایا کہ یہی خدا تعالیٰ کا اور اس کے رسول کا فیصلہ ہے (قضاء الله ورسوله)۔