قتل مرتد اور اسلام — Page 247
247 یعنی خطابی کہتا ہے کہ علماء اسلام نے اتفاق کیا ہے کہ خارج باوجود اپنی گمراہی کے مسلمان فرقوں میں سے ایک فرقہ ہیں اور ان کے ساتھ مناکحت جائز ہے اور جب تک وہ اصل اسلام پر قائم ہیں وہ کا فرنہیں کہلائے جاسکتے۔پھر اسی کتاب کے صفحہ 268 پر لکھا ہے:۔قال ابن بطل ذهب جمهور العلماء الى ان الخوارج غير خارجين من جملة المسلمين۔“ یعنی ابن بطل نے کہا ہے کہ جمہور علماء کا یہ مذہب ہے کہ خوارج مسلمانوں کی جماعت سے خارج نہیں۔تفسیر کبیر جلد 3 کے صفحہ 614 پرلکھا ہے:۔ان اسم المرتد انّما يتناول من كان تاركا للشرائع الاسلامية والقوم الذين نازعوا عليّا ماكانوا كذلك في الظاهر وماكان احد يقول انه انما يحاربهم لاجل انهم خرجوا من الاسلام وعلى لم يسمهم البتة بالمرتدين۔“ یعنی مرتد کا نام اس شخص پر اطلاق پاتا ہے جو شرائع اسلامی کو ترک کر دے۔اور جس قوم نے حضرت علی کی مخالفت کی وہ ظاہر میں شرائع اسلامی کے تارک نہ تھے۔اور کوئی شخص یہ نہیں کہتا تھا کہ حضرت علی اس لئے ان سے جنگ کرتے ہیں کہ وہ اسلام سے خارج ہو گئے ہیں اور حضرت علی نے ہرگز ان کا نام مرتد نہیں رکھا۔منهاج السنة مصنفہ شیخ ابن تیمیہ جلد 3 کے صفحہ 62،61 پر لکھا ہے:۔قال الاشعرى وغيره اجمعت الخوارج على تكفير على ابن ابی طالب۔۔۔۔ومع هذا فقد صرح على بأنهم مؤمنون ليسوا كفارا ولا منافقين ومما يدلّ على ان الصحابة لم يكفروا الخوارج