قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 233 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 233

233 طبری کے مندرجہ ذیل اقتباس سے ظاہر ہے۔وو ولم يقبل (خالد بعد هزيمتهم من احد من اسد وغطفان ولا هوازن ولا سليم ولاطئ الا ان ياتوه بالذين حرقوا ومثلوا وعدوا على اهل الاسلام في حال ردّتهم " تاریخ طبری جلد ۴ صفحه ۱۹۰۰ و ایضاً ابن خلدون جلد ۲ صفحہ اے و تاریخ الکامل جلد ۲ صفحه ۱۴۹ بتغایر الالفاظ ) مندرجہ ذیل اقتباس سے ظاہر ہے کہ بنی اسد اور غطفان اور ہوازن اور سلیم اور بنی طی کے لوگوں نے مسلمانوں کو آگ میں ڈال کر جلایا اور ان کا مثلہ کیا۔اور یہ سب قبائل وہ ہیں جو مرتد ہو کر طلیحہ کے ساتھ مل گئے تھے۔اسی طرح عکاشہ بن محصن اور ثابت بن اقرم انصاری گردو نواح کی گشت اور ادھر ادھر کی تگ و دو کو نکلے تو ان کی غفلت میں طلیحہ اور اس کے بھائی نے انہیں قتل کر دیا اور مسلمانوں نے ان کی لاشوں کو روندا ہوا پایا۔مندرجہ بالا واقعات کی تصدیق کے لئے ملاحظہ ہوں طبری جلد 4۔تاریخ الکامل جلد 2 اور خمیس جلد 2۔اب ناظرین خود ہی فیصلہ فرماویں کہ کیا طلیحہ کا جرم صرف یہی تھا کہ اس نے ارتداد اختیار کیا یا وہ دوسرے جرموں کا بھی مرتکب ہو چکا تھا؟ وہ نہ صرف خود باغی تھا بلکہ وہ دوسرے باغیوں کا ملجاء اور ماوی بنا ہوا تھا۔اور اس کے لوگوں نے اور خود اس نے مسلمانوں کو قتل کیا۔کیا ان حالات میں یہ ضروری نہ تھا کہ اس سے قتال کیا جاوے؟ اور پھر طرفہ یہ کہ لڑائی کرنے سے پہلے حضرت خالد نے اپنا ایلچی طلیحہ کے پاس بھیجا۔خونریزی سے اس کو روکنا چاہا اور بہت سمجھایا مگر اس نے خالد کے پند و نصائح کو کسی طرح نہیں سنا۔جب مسلمان عاجز آگئے اور کسی نصیحت نے بھی اثر نہ دکھایا تو ہار کے لڑائی کی ٹھہری۔ابتدائے اسلام میں جن لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے قریب دعوای نبوت کیا وہ صرف مسیلمہ اور طلیحہ ہی نہیں تھے بلکہ ان کے سوا اور بھی کئی اشخاص نے