قتل مرتد اور اسلام — Page 16
16 عَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ (ال عمران:191 192) آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات اور دن کے آگے پیچھے آنے میں عقلمندوں کے لئے یقیناً کئی نشان موجود ہیں۔وہ عقلمند جو کھڑے اور بیٹھے اور اپنے پہلوؤں پر اللہ کو یاد کرتے رہتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش کے بارے میں غور وفکر سے کام لیتے ہیں۔کبھی وہ فرماتا ہے:۔أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَى قُلُوْبِ أَقْفَالُهَا (محمد: 25) کیا وہ قرآن پر غور نہیں کرتے کیا ان کے دلوں پر قفل لگے ہوئے ہیں۔کبھی فرماتا ہے:۔أنْظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الْآيَتِ لَعَلَّهُمْ يَفْقَهُونَ (الانعام: 66) دیکھ ہم دلیلوں کو کس طرح بار بار بیان کرتے ہیں تا کہ وہ سمجھیں۔غرض قرآن شریف بار باراَ فَلَا تَعْقِلُونَ اور اَفَلَا تَتَفَكَّرُونَ۔لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ۔اَفَلَا يَعْقِلُونَ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ۔اور ایسے ہی الفاظ کہ کر انسان کی عقل سے اپیل کرتا ہے اور اس کو غور اور فکر کی تحریک کرتا ہے اور منافقوں اور کفار کی نسبت فرماتا ہے:۔صمٌّ بُكْمُ عَلَى فَهُمْ لَا يَعْقِلُونَ ) (البقرة:172) ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا لَا يَعْقِلُونَ (المائدة: 59) الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ (الانفال: 23) لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَذَانٌ لَّا يَسْمَعُونَ بِهَا أُولَيكَ كَالْاَ نْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ أُولَيكَ هُمُ الْغُفِلُونَ (الاعراف: 180) یہ لوگ بہرے، گونگے اور اندھے ہیں اس لئے سمجھتے نہیں۔یہ اس لئے ہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔یہ بہرے اور گونگے ہیں جو کچھ بھی عقل