قتل مرتد اور اسلام — Page 182
182 نے آپس میں کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کون بات کر سکتا ہے اور کس کو آپ سے گفتگو کرنے کی جرات ہو سکتی ہے سوائے اسامہ بن زیڈ کے جس کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کومحبت ہے۔پس حضرت اسامہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارہ میں سفارش کی۔آپ نے فرمایا أتشفع في حدٍ من حدود الله کیا تو خدا تعالیٰ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کرتا ہے؟ پھر آپ کھڑے ہوئے۔آپ نے ایک تقریر فرمائی۔اور سب صحابہ کو مخاطب ہو کر فرمایا۔اے لوگو! تم سے پہلی امتیں اس لئے گمراہ ہو گئیں کہ جب کوئی شریف خاندان کا آدمی ان میں سے چوری کرتا تو اس کو چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور آدمی چوری کرتا تو اس پر شرعی حد جاری کرتے۔خدا تعالیٰ کی قسم ! اگر فاطمہ بنت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا۔اس واقعہ سے ناظرین نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کا شرعی حدود کے معاملہ میں کیا رویہ تھا۔کیا ناظرین ایک طرفہ العین کے لئے بھی گمان کر سکتے ہیں کہ حضرت عثمان یا کسی اور شخص کی سفارش پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کسی شرعی حد کو ترک کر سکتے تھے ؟ اگر عبداللہ بن ابی سرح پر بوجہ ارتداد کوئی شرعی حد وارد ہو سکتی تھی تو یہ کس طرح ممکن تھا کہ آپ حضرت عثمان کی سفارش کا لحاظ کر کے اس کو معاف کر دیتے۔لکھا ہے کہ حضرت عثمان کی سفارش پر دیر تک آپ خاموش رہے اور اس خیال پر کہ صحابہ میں سے کوئی شخص اسے تلوار کی گھاٹ اتار دے گا۔اگر عبداللہ ابن ابی سرح ایک شرعی حد کا مستوجب تھا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا ضرورت تھی کہ اس طرح خاموشی اختیار کرتے اور صحابہ کا انتظار فرماتے کہ ان میں سے کوئی شخص عبد اللہ بن ابی سرح کو قتل کرتا؟ ایسی صورت میں آپ حضرت عثمان کو وہی جواب دیتے جو آپ نے اسامہ کو دیا تھا۔اتشفع في حد من حدود الله یعنی کیا تو حدود اللہ کے متعلق سفارش کرتا ہے؟ آپ اس قسم کی سفارشوں کو سخت کراہت کی نظر سے