قتل مرتد اور اسلام — Page 133
133 ہو کہ اس نے تمام کائنات انسانیت کے عمر بھر کے معاملات میں کبھی غلطی نہ کی ہو۔ظاہر ہے کہ نہ مسٹر گاندھی کسی ایسی عقل کو پیش کر سکیں گے اور نہ مولوی صاحب کو اس امر کی ضرورت پیش آئے گی کہ قتل مرتد کو معقولی رنگ میں صحیح ثابت کریں۔چلو چھٹی ہوئی۔نہ کو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی۔مولوی صاحب! اگر عقل کی حق و باطل کو پر کھنے والی کسوٹی ایسی ہی نایاب چیز ہے تو اسلام نے خود آپ کے اقرار کے بموجب حق و باطل کے امتیاز کا یہ اصول کیوں پیش کیا اور آپ کے بیان کے بموجب اسی پر اپنی قبولیت و عدم قبولیت کا انحصار کیوں رکھا ؟ کیا اپنی سچائی کے جانچنے کے لئے کوئی ایسا معیار پیش کرنا جس کا حاصل ہونا ناممکنات سے ہو عمداً دنیا کو دھوکہ دینا نہیں ہے؟ کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ اس معیار کو پیش کرنے والا دراصل اپنے دعوئی میں جھوٹا ہے اور دنیا کو فریب دیتا ہے کیونکہ وہ اپنے دعوی کی صحت کو جانچنے کے لئے ایک ایسا معیار پیش کرتا ہے جس کے ذریعہ اس کے بیان کی سچائی پر کھنا ہی ناممکن ہے۔پھر میں مولوی صاحب سے پوچھتا ہوں کہ انہوں نے اور ان کے ہمنوا مولوی صاحبان نے اسلام کو کیوں اختیار کر رکھا ہے، کیا اس لئے کہ وہ مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہوئے یا انہوں نے عقل کی حق و باطل کو پر کھنے والی کسوٹی سے اسلام کو جانچ کر دیکھ لیا ہے کہ یہ سچا دین ہے؟ اگر امر اول ان کے مسلمان رہنے کی وجہ ہے تو اس صورت میں میرا اُن سے کوئی مطالبہ نہیں۔لیکن اگر انہوں نے عقل کی حق و باطل کو پر کھنے والی کسوٹی سے اسلام کو جانچ کر دیکھ لیا ہے کہ یہ ایک سچا دین ہے تو پھر میں ان سے پوچھتا ہوں کہ کیا ان سب کی عقلوں میں وہ سب صفات موجود ہیں جو مولوی صاحب نے تجویز فرمائے ہیں اور کیا ان کی عقلوں نے کبھی رائی برابر بھی کوئی غلطی نہیں کھائی۔اگر مولوی ظفر علی خان صاحب اور ان کے ہم خیال علماء اپنی عقل کے ذریعہ اسلام کی صداقت کو جانچ سکتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ دوسرے لوگ اسلام کے