قتل مرتد اور اسلام — Page 113
113 سزایاب ہوتے ہیں۔“ میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ جب ایک شخص ایک دین کو قبول کرتا ہے تو اس پر اس دین کے متعلق بعض پابندیاں عائد ہو جاتی ہیں جو پہلے ان پر لازم نہ تھیں اور جب تک وہ اس دین میں ہے وہ ان کی ذمہ داریوں سے آزاد نہیں ہوسکتا۔وہ اس دین کے دوسرے پیروؤں کی طرح ان تمام ضوابط اور قوانین کا پابند ہو گا جو اس دین نے اپنے پیروؤں کے لئے مقرر کر رکھے ہیں اور ان کی خلاف ورزی میں وہ اسی تعزیر کا مستوجب ہو گا جو اس دین میں ایسی خلاف ورزی کے لئے مقرر کی گئی ہے۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ایک دفعہ ایک دین کو قبول کرنے کے بعد پھر اس کو کبھی ترک کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔اگر یہ قاعدہ درست ہے کہ ایک شخص ایک دفعہ ایک مذہب اختیار کرنے کے بعد پھر اس مذہب کو کسی صورت میں ترک نہیں کر سکتا تو یہ قاعدہ جیسا اسلام کے واسطے درست ماننا پڑے گا ویسا ہی دوسرے مذاہب کے لئے بھی درست ماننا پڑے گا۔جیسا اسلام کسی کو مجبور نہیں کرتا کہ وہ اس میں داخل ہو لیکن جب ایک انسان اپنی خوشی سے اسے قبول کرتا ہے تو وہ اپنی مرضی سے اس کے قوانین کا جوا اپنی گردن پر رکھتا ہے اور اپنے تئیں اس کا پابند بنادیتا ہے کہ ان کی تعمیل کرے اور خلاف ورزی کی صورت میں اس سزا کو برداشت کرے جو اس کے لئے مقرر کی گئی ہے ایسا ہی دوسرے مذاہب بھی کسی کو مجبور نہیں کرتے کہ وہ ان کو اختیار کر یں لیکن اگر ایک شخص اپنی خوشی سے ان کو قبول کرتا ہے تو وہ اپنی مرضی سے ان کے ضوابط کا جوا اپنی گردن پر اٹھاتا ہے اور وہ پابند ہے کہ جب تک وہ اس مذہب کی پیروی کا دعویٰ کرتا ہے اس کے قوانین کی پیروی کرے اور عدم تعمیل کی صورت میں اس تعزیر کو قبول کرے جو ایسے موقع کے لئے تجویز کی گئی ہے۔پس اس قاعدہ میں عقلاً اسلام اور دیگر مذاہب میں کوئی فرق نہیں۔یہ قاعدہ اگر معقول ہے تو سب مذاہب کے لئے عام ہونا چاہئیے اور مولوی شاکر حسین صاحب سہسوانی