قتل مرتد اور اسلام — Page 106
106 دوسرے کی رائے کو نہ سننا چاہئیے اور نہ اس پر غور کرنا چاہئیے بلکہ آزادی ضمیر کا صرف یہی مطلب ہے کہ اگر ایک شخص کسی امر کے متعلق کوئی خاص عقیدہ رکھتا ہے تو ہمیں اسے مجبور نہیں کرنا چاہئیے کہ وہ اس عقیدہ کوترک کر دے۔کیونکہ ایسا کرنا ایک احمقانہ حرکت ہے۔ہم جبر سے کسی کے عقیدہ کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ہاں اگر ہماری رائے میں اس کا عقیدہ غلط ہے تو ہمیں عقلی اور نقلی دلائل کے ذریعہ سے اس کی فطرت انسانی کے آگے اپیل کر کے کوشش کرنی چاہئیے کہ وہ اپنی غلطی کو سمجھ جائے لیکن اگر وہ ہمارے سمجھانے کے بعد بھی اپنے غلط عقیدہ کو ترک نہیں کرتا تو ہمیں اس کے غلط عقیدہ کی وجہ سے اس کو دکھ اور عذاب نہیں دینا چاہئیے۔یہ ہے مفہوم آزادی ضمیر کا۔اگر اس پر کوئی اعتراض پڑتا ہے تو الجمعية کو اختیار ہے کہ اپنے اعتراض کو پیش کرے لیکن اس پر اعتراض کرنا خود قرآن شریف پر اعتراض کرنا ہے کیونکہ قرآن شریف اسی امر کی تعلیم دیتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔(ا) فَذَكِّرُ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكَّرَةٌ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُضَبْطِرٍ (الغاشية: 23) پس (اے پیغمبر ) نصیحت کر کہ تو تو صرف نصیحت کرنے والا ہے۔تو ان لوگوں پر داروغہ کے طور پر مقرر نہیں ہے۔(۲) فَأَعْرِضْ عَنْ مِّنْ تَوَلَّى عَنْ ذِكْرِنَا وَلَمْ يُرِدْ إِلَّا الْحَيَوةَ الدُّنْيَات (النجم: 30) (اے رسول ) تو بھی اس شخص سے منہ پھیر لے اور اس کی پیروی نہ کر جو ہمارے ذکر سے منہ پھیر لیتا ہے اور سوائے دنیا کی زندگی کے اور کچھ نہیں چاہتا۔(۳) وَإِنْ كَذَّبُوكَ فَقُل لِّي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ ، أَنْتُمْ بَرِيتُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَآنَا بَرِئَ مِمَّا تَعْمَلُوْنَ (يونس:42) اور اگر وہ تجھے جھٹلا ئیں تو انہیں کہہ کہ میر اعمل خود میرے لئے اور تمہاراعمل تمہارے لئے