قتل مرتد اور اسلام — Page 99
99۔صلى الله عليه وسلم“ تب بنی اسرائیل میں سے ستر ہزار آدمی مارے گئے اور جولوگ مارے گئے وہ سب شہید تھے اور جو باقی رہ گئے ان کے گناہ بخش دیئے گئے اور اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی کہ ہم قاتل و مقتول دونوں کو جنت میں داخل کریں گے۔یہ معنی اس روایت پر مبنی ہیں کہ قاتل مجرمین میں سے تھے۔اس صورت میں فاقتلوا انفسكم کے یہ معنی ہوں گے کہ مجرمین میں سے بعض دوسرے مجرموں کو قتل کر دیں۔اور جب قتل سے رکنے کا حکم آگیا تو اس وقت جو باقی رہ گئے وہ قاتل ہوئے۔“ اور یہ بیان کیا گیا ہے کہ قتل کا حکم ان طوقوں میں سے ایک طوق تھا جو بنی اسرائیل کے گلے میں پڑے ہوئے تھے یعنی وہ پختہ اقرار جو ان سے اس طرح چمٹے ہوئے تھے جس طرح طوق گلے میں چمٹا ہوا ہوتا ہے اور یہ حکم ان بوجھوں میں سے ایک بوجھ تھا جو ان پر ڈالے گئے تھے یعنی اعمال شاقہ مثلاً ایسے اعضاء کا کاٹ ڈالنا جن کے ساتھ گناہ کیا جائے وغیرہ وغیرہ۔اور یہ امور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعزاز کی خاطر امت پر سے اٹھالئے گئے ہیں۔“ اس تفسیر کی رو سے بھی یہ آیت قتل مرتد کے حامیوں کے لئے کچھ مفید نہیں ہے کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جن کو قتل کیا گیا وہ شہید ہوئے اور یہ کہ مقتل ان اعمال شاقہ اور ان بھاری بوجھوں میں سے ہے جو پہلی امتوں پر ڈالے گئے اور جو امت محمدیہ پر سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اعزاز کی خاطر اٹھا دیئے گئے ہیں۔پس یہ آیت اس تفسیر کی رو سے بھی قتل مرتد کے سوال سے کوئی تعلق نہیں رکھتی۔کیونکہ بیان مذکورہ کے مطابق یقیل اور ہی رنگ کا قتل تھا جواب منسوخ ہو چکا ہے اور امت محمدیہ میں اب یہ حکم جاری نہیں ہے۔اسی طرح روح البیان جلد اصفحہ ۹۵ میں فَاقْتُلُوا اَنْفُسَكُمْ کے ایک اور معنے بھی لکھے ہیں اور وہ یہ ہیں :۔فاقتلوا انفسكم بقمع الهوى لان الهوى هو حيات النفس وبالهوى