قندیل صداقت

by Other Authors

Page 284 of 318

قندیل صداقت — Page 284

-11- علامہ ابوالحسن علی ابن احمد الواحدی نیشاپوری شیخ الاسلام ابو الحسن علی ابن احمد الواحدی نیشاپوری الشافعی۔آپ نے نیشا پور میں 468ھ میں وفات پائی۔آپ نے مدینہ اور کوفہ میں تعلیم حاصل کی۔واحدی ثعلبی جو کہ صاحب التفسیر ہیں اُن کے شاگرد ہیں۔اُن سے تفسیر کا علم حاصل کیا۔آپ مفسر ، محو اور لعنت کے ماہر تھے۔آپ کی مشہور تصانیف اسباب النزول، التعبير في شرح اسماء الله تعالى الحسنى، شرح ديوان ابی الطيب المتبنی ہیں۔12- علامہ فخر الدین رازی علامہ فخر الدین الرازی ابو عبد اللہ محمد بن عمر بن حسین القرشی الطبرستانی 543ھ میں ایران کے مشہور شہر ”رے“ میں پیدا ہوئے اور 606 ہجری میں عید کے دن آپ نے وفات پائی۔ابتدائی تعلیم اپنے والد ضیاء الدین ابوالقاسم سے جو علم الکلام کے ماہر تھے ، سے حاصل کی۔ثمر قند ، ہندوستان اور دیگر مقامات میں پناہ گزیں ہو گئے۔اسلام کے مشہور ترین علماء دین، مفسرین قرآن میں ایک بلند پایہ مفسر ، نادر الوجود عالم تھے۔عالموں کے لئے سرچشمہ تھے۔آپ کی مشہور تصانیف التفسير الكبير ، تفسير الفاتحه، التفسير الصغير ، نهاية العقول ، المعالم فی اصول الفقیهه الاربعين في اصول الدين وغيره ہیں۔آپ کی تصانیف کی تعداد قریباً 68 ہے۔13- علامہ علی بن محمد علامہ علی بن محمد بن عبد الکریم بن عبد الواحد المعروف بابن الا شیر الجزری 1160ء میں پیدا ہوئے اور 1233ء میں آپ نے وفات پائی آپ کی کنیت ابوالحسن ہے۔ابن خلکان نے آپ کے حالات میں لکھا ہے کہ آپ تحصیل علم کے لئے بغداد گئے وہاں سماعت کی پھر شام اور القدس سے ہوتے ہوئے موصل پہنچ گئے جہاں آپ نے علم حدیث میں مہارت حاصل کی۔آپ مؤرخ، محدث حافظ اور ادیب تھے۔آپ کی مشہور تصانیف اسد الغابة في معرفة الصحابه ، الكامل في التاريخ ، الجامع الكبير في علم البیان اور کتاب الجہاد شامل ہیں۔14- علامہ محی الدین ابن عربی حضرت محمد بن علی بن محمد بن احمد بن عبد الله الطائی الحاتمی المعروف بہ الشیخ الاكبر ابن عربی محی الدین 560ھ / 1165ء میں بمقام اندلس پید اہوئے۔اور 638ھ / 1240ء میں وفات پائی۔30 سال حصولِ علم میں سر گردان رہے۔اشبیلیہ منتقل ہونے 284