قندیل صداقت — Page 283
- علامہ محمد بن سعد البصرى آپ کا نام محمد بن سعد بن مینع البصری الدھری المکنی بابی عبد اللہ ہے۔آپ 168 ھ میں بصرہ میں پیدا ہوئے اور 230ھ میں بغداد میں وفات پائی۔دینی تعلیم کی خاطر آپ نے بغداد، مدینتہ المنورہ اور کوفہ کی طرف بھی سفر کیے۔اس دوران بڑے بڑے شیوخ سے علم حاصل کیا۔آپ اپنے زمانے کے حدیث کے بڑے بڑے عالموں میں سے تھے۔آپ محدث اور حافظ تھے۔آپ کی مشہور کتاب الطبقات الکبیر ہے۔- علامہ ابو الحسن علی بن عمر علامہ ابو الحسن علی بن عمر بن احمد بن مهدی بن مسعود بن نعمان بن دینار عبد اللہ 306ھ میں پیدا ہوئے اور 385ھ میں آپ نے وفات پائی۔آپ کا آبائی وطن بغداد تھا اور محلہ قطن میں پیدا ہوئے۔زمانے کے مشاہیر محد ثین سے حدیث کا علم حاصل کیا۔اس سلسلہ میں بصرہ ، کوفہ شام اور مصر پہنچے۔ادبیات، قرآت وغیرہ کی تعلیم حاصل کی۔آپ کو امیر المومنین فی الحدیث کا لقب بھی دیا گیا۔آپ کی مشہور تصانیف کتاب السنن الدار القطنى ، كتاب علل الحديث ، الالزامات على الصحيحين، الاستدراكات و التتبع اور کتاب الاربعین ہیں۔9 - امام الراغب الاصفہانی علامہ ابوالقاسم الحسین بن محمد بن المفضل المعروف بن امام الراغب الاصفہانی پانچویں صدی ہجری کے مشہور عالم اہل لغت ہیں۔بعض لوگ انہیں معتزلی کہتے ہیں جبکہ امام رازی نے انہیں اہل سند اور صحیح العقیدہ قرار دیا ہے۔آپ ایک مستند اہل زبان، ادیب اور مفسر تھے۔آپ کی تصنیف لطیف مفردات لألفاظ القرآن شہرہ آفاق ہے۔علاوہ ازیں آپ نے لغت و ادب کے حوالہ سے بعض اور ثقہ کتب بھی تصنیف فرمائی ہیں۔10- علامہ ابوالقاسم محمود بن عمر مشہور ایرانی الاصل عالم ابوالقاسم محمود بن عمر 467ھ میں اپنے آبائی وطن خوارزم میں پیدا ہوئے اور 538 ھ میں وفات پاگئے۔لڑکپن میں ہی طلب علم کے شوق میں گھر سے نکل کھڑے ہوئے۔علم کلام میں آپ نے معتزلہ خیالات کی پیروی کی۔اور مندرجہ ذیل ضخیم کتب تصنیف کیں۔مختصر الموافقة بين ابل البيت والصحابه ، خصائص العشرة الكرام البررة 283