قندیل صداقت — Page 251
Khatm-e-Nubuwat حه اول فیضان مختم نبوت ۱۵۴ Khatm-e-Nubuwat چوں کہ دست خود بدست اوری پس زدست آکلاں بیروں بھی ترجمہ جب تم اس کے ہاتھ میں اپنانا تو بیعت کے لئے دے دو گے۔اور اس کی ہدایات پر عمل بھی کرو گے، تو پھر تم رشیطان لمین نفس انارہ اور وساء میں و خواطر و غیرہ کے درندوں سے صدات بیچ بہاؤ گے) دست تو از اہل اس بیعت شود که يَدُ اللهِ فَرق آید بهم بود ترجمہ پھر تمہارا ہاتھ ان بیست درضمان) والوں کے ہاتھوں) میں سے ہو جائے گا بین کے ہاتھوں پر اللہ تعالے کا ہاتھ ہوں مطلب: مرشد کامل کی بیعت گویا رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعیت ہے۔اور اس بیعت کرنے والے کے ہاتھ پر اللہ تعالے کا ہاتھ ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ سلسلہ بیعت خواہ کسی خانوادہ میں ہو۔اس کی انتہا رسول اللہ ملے اللہ علیہ و آلہ وسلم تک ہے۔مرشد کا ہاتھ اپنے مرشد کے ہاتھ سے ہو چکا ہے۔اور اس مرشر کا ہاتھ اپنے مرشد کے ہاتھ ہے۔اسی طرح یہ سلسلہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ یا حضرت علی کرم الله و جمعہ تک پہنچتا ہے۔اور ان پر دو حضرات کے ہاتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کے دست مبارک سے مل چکے ہیں۔اس لحاظ سے مرشد کامل کے ہاتھ میں ہاتھ دیتا گو یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست مبارک سے ہاتھ ملانا ہے۔دوسرے مصروفہ میں بیعت رضوان کی طرف اشارو ہے۔اور یہ کلمات آیت قرآنیہ سے مقتبس ہیں۔اس بہیت کا مفصل ذکر مفتاح العلوم میاد چہارم کے اوائل میں گزر چکا ہے۔چول بلادی دسری در دست که پیر حکمت کو حکیم است و خبیر ترجمہہ جب تم اپنا ہاتھ مرشد کامل کے ہاتھ میں دے دو گے تو دیکھولیں گے۔کہ وہ پیر حکمت ودانائی کا معلم ہے کیونکہ وہ صاحب ملکت ہے۔اور با شمیر ہے۔مطلب : اب ہے تم کو اپنی عقل و دانائی پر نار ہے۔تو مرشد کی بیعت کرنے سے معلوم ہو جائے گا۔کہ تمہاری عقل اس سے درس حکمت پانے کی کس قادیر محتاجہ تھی۔ہے حافظ رم از روان کشتی کیلئے ترنم پیش تودم زانکه در این فرائی چو دست تان نیست کو نبی وقت خویش است اسے مریلہ زان که او نور نبی آمد پدید ترجیہ کیونکہ اسے مرید دو سرشار کامل، اپنے عہد کا نبی ہے۔اس لئے کہ ووصات طور پر نبی کا نور ہے۔مطالب : چونکہ مہ شکر نہی کی تعلیمات کو شالہ کرنے اور ان پر عمل کرنے والا ہوتا ہے۔اس لئے : گوپانی کا نور ہے۔کیونکہ اس سے وہی روشنی پھیلتی ہے۔بیویوں کی بعثت ست مقصود ہے۔پہلا مصرعہ اس حدیث کے مضمون پر مشتمل ہے۔کہ بات عین فی قومہ کا لنبی کی امید لیے شیخ اپنی قوم میں ایسا ہے جیسے نبی اپنی امت میں تمیز الطیب میں لکھا ہے۔کہ اس حدیث کو ابن حبان نے ضعیف حدیثوں میں درج کیا ہے۔اور وہ ابو رافع سے مرکو نامرہ میں ہے۔اور کہا ہے وھذا موضوم ابن تیمیہ اور ابن حجر اس کے غموں ہوتے یقین کیا ہے۔(انتہین) 251 حارث الشيخ في توسکا لنبي في ناسته