قندیل ہدایت — Page 706
310 706 of 1460 www۔kitabosunnat۔com مفردات القرآن - جلد 1 دروازوں پر مہر لگا کر انہیں محفوظ کر دیا جاتا ہے۔کہ کوئی چیز طرح آیات کریمہ: ﴿وَلاَ تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَنْ ذِكْرِنَا (۱۸۔ان کے اندر داخل نہ ہو۔قرآن پاک میں ہے: خَتَمَ اللهُ عَلَى قُلُوْبِهِم (۷۲) اللہ نے ان (۲۸) اور جس شخص کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے۔اس کا کہنا نہ ماننا۔کے دلوں پر مہر لگا دی ہے۔وَخَتَمَ عَلَى سَمْعِهِ وَ قَلْبِهِ (۴۵-۲۳) اور اس ﴿وَجَعَلْنَا عَلَى قُلُوبِهِمْ أَكِنَّهُ أَنْ يَفْقَهُوهُ (۴۶-۱۷) اور ان کے دلوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں کہ کے کانوں اور دل پر مہر لگادی۔اور کبھی کسی چیز کا اثر حاصل کر لینے سے کنایہ ہوتا ہے جیسا اسے سمجھ نہ سکیں۔کہ مہر سے نقش ہو جاتا ہے اور اسی سے خَتَمْتُ الْقُرْآنَ وَجَعَلْنَا قُلُوبَهُمْ قَاسِيَةٌ ) (۱۳۵) اور ان کے کا محاور ہے یعنی قرآن پاک ختم کر لیا اور آیت کریمہ: والوں کو سخت کر دیا۔ختَمَ اللهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ) (۷۲) خدا نے ان میں اِغْفَالُ کِن اور قساوة سے بھی علی الترتیب یہی کے دلوں پر مہر لگا دی۔اور آیت : معنی مراد ہیں۔وقُلْ اَرَأَيْتُمْ إِنْ اخَذَ اللَّهُ سَمْعَكُمْ وَابْصَارَكُمْ جہائی کہتے ہیں کہ اللہ کے کفار کے دلوں پر مہر لگانے کا وَخَتَمَ عَلَى قُلُوبِكُمْ (۶ (۴۶) ان کافروں مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر ایسی علامت قائم ( سے) کہو بھلا دیکھو تو اگر تمہارے کان یا دو آنکھیں چھین کر دیتے ہیں کہ فرشتے ان کے کفر سے آگاہ ہو جاتے ہیں لے اور اور تمہارے دلوں پر مہر لگادے۔میں عادت الہیہ اور ان کے حق میں دعائے خیر نہیں کرتے۔لیکن یہ کی طرف اشارہ ہے کہ جب انسان اعتقاد باطل یا محرمات بے معنی سی بات ہے۔کیونکہ اگر یہ کتابت محسوس ہوتو کے ارتکاب میں حد کو پہنچ جاتا ہے اور کسی طرح حق کی اصحاب التشریح کو بھی اس کا ادراک ہونا ضروری ہے اور اگر طرف التفات نہیں کرتا تو اس کی ہمت نفسانی کچھ ایسی بن سراسر عقلی اور غیر محسوس ہے تو ملائکہ ان کے عقائد باطلہ جاتی ہے کہ گناہوں کو اچھا سمجھنا اس کی خوبن جاتی ہے۔مطلع ہونے کے بعد اس قسم کی علامت سے بے نیاز ہیں۔گویا اس طرح اس کے دل پر مہر لگ جاتی ہے۔چنانچہ اسی بعض نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مہر لگانے کے معنی ان کے ایمان نہ لانے کی شہادت دینے کے ہیں اور آیت معنی میں فرمایا : 1 کریمہ: أُولئِكَ الَّذِينَ طَبَعَ اللهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَسَمْعِهِمْ وَاَبْصَارِهِمْ ) (۱۲) (۱۰۸) یہی لوگ ہیں جن کے الْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلَى أَفْوَاهِهِمْ (۳۶-۲۵) آج دلوں اور کانوں اور آنکھوں پر خدا نے مہر لگا رکھی ہے۔اسی ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں۔کے معنی یہ ہیں کہ وہ هـوابـو علـى محمد بن عبد الوهاب الحبائى المتوفى ۳۰۳ه والجباء مثل رمان كورة بخوزستان من نواحي الاهوازيين فارس والنضرة منها (التاج )۔وواسطه محکم دلائل وبراہین سے مزین متنوع و منفرد موضوعات پر مشتمل مفت آن لائن مکتبہ