قندیل ہدایت — Page 705
309 705 of 1460 www۔kitabosunnat۔com مفردات القرآن - جلد 1 دُونِكُمْ لاَ يَأْلُونَكُمْ خَبَالا (۳-۱۱۸) مومنو! بنا پر جو یا گہیوں کی بالی کے چھلکے کو بھی خباء کہا جاتا ہے۔(کسی غیر مذہب کے آدمی ) کو اپنا راز دان نہ بنانا۔یہ قرآن میں ہے: لوگ تمہاری خرابی ( اور فتنہ انگیزی کرنے میں کسی طرح كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنَاهُمْ سَعِيرًا (۱۷-۹۷) جب اس کی آگ بجھنے کو ہوگی تو ہم ان کو عذاب دینے کے کی کوتا ہی نہیں کرتے۔﴿وَمَا زَادُوكُمْ إِلَّا خِبَالًا ) (۴۹) تو تمہارے لئے ) اور بھڑکا دیں گے۔حق میں شرارت کرتے۔رخ ت ر) الْخَيْرُ : اصل میں اس غداری کو کہتے ہیں جسے اس اور حدیث میں ہے۔(١٠٦) مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ ثَلاثًا كَانَ حَقًّا عَلَی قدر کوشش سے کیا جائے کہ انسان کمزور پڑ جائے اور اس اللَّهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِيئَةِ الْخَبَالِ: جو شخص تین مرتبہ کے اعضاء ڈھیلے پڑ جائیں قرآن پاک میں ہے: شراب پئے گا تو اللہ تعالیٰ اسے لازماً دوزخیوں کی پیپ كُلُّ خَنَّارِ كَفُورِ (۳۱-۳۲) جو عہد شکن اور پلائے گا۔زہیر نے کہا ن ع (طویل) (۱۳۰) هُنَالِكَ إِنْ يُسْتَخْبَلُوا الْمَالُ يَخْبِلُوا ناشکرے ہیں۔خ ت م) اَلْخَتْمُ وَالطَّبع کے لفظ دو طرح سے استعمال یعنی ایسے موقعہ پر اگر ان سے مال مانگا جائے تو وہ مال دے دیتے ہیں۔خ ب و) ہوتے ہیں کبھی تو خَتَمْتُ اور طبعت کے مصدر ہوتے ہیں اور اس کے معنی کسی چیز پر مہر کی طرح نشان لگانا کے ہیں اور کبھی اس نشان کو کہتے ہیں جو مہر لگانے سے بن جاتا خَبَتِ (ن) النَّارُ : آگ کا شعلہ افسردہ ہو گیا اور ہے۔اس پر راکھ کا خباء یعنی پردہ سا آ گیا۔اصل میں خِبَاءُ مجاز اکبھی اس سے کسی چیز کے متعلق وثوق حاصل کر اس پردہ کو کہتے ہیں جس سے کسی چیز کو ڈھانپا جائے۔اس لینا اور اس کا محفوظ کرنا مراد ہوتا ہے۔جیسا کہ کتابوں یا الحديث باختلاف الفاظه في النسائي عن ابن عمر و وحم ق ه ن عن ابن عمرو (ه) عن ابي هريرة ) و (طب عن ابن عمرو) والترمذي عن ابن عمرو وردة عن ابن عمرو) راجع الفتح الكبير ج ٢٠١:٣ - ٢٠٢)۔قاله زهیر بن ابی سلمى المزنى وتمامه۔وان يسئلوا يعطوا وان يسيروا يغلوا والبيت فى اللسان (خيل ، خول ) وفي رواية الطبری (۲۳-۲۷۸۷/۱۹۹) وان يستخولوا بدل يستخبلوا ويخولوا بدل يخبلوا وكذا في رواية ابي عبيد في غريبه والعسكري في الصناعتين وعده من جيد المديح قال في الامالي (١٥٤:٢) ومايبالى مدح بهذين البيتين الايمدح بغيرهما والبيت في مختار الجاهلي بشرح المصطفى السقا (١: ١٦٣) والمختارات ٦٢ والمعمدة (۲ : ۱۲۷) و نقد الشعر ٣٣ في سبعة ابيات والبحر (٧: ١٤٣) والعقد الثمين ٩١ والمعانى الكبير ٥٢٩ والسيوطى ۱۰۸ قال في اللسان والاخبال اعطاء البعير او الناقة للركوب و استخبل اى استعار منه والاصمعي وأبو عبيدة في روتهما عن ابي عمر و انكر الاستخبال وغير هما اثبته ( والمعاني للقبتى ٥٤٠)۔محکم دلائل وبراہین سے مزین متنوع و منفرد موضوعات پر مشتمل مفت آن لائن مکتبہ