قندیل ہدایت — Page 270
270 of 1460 www۔kitabosunnat۔com مفردات القرآن - جلد 2 نیک بندوں کے ساتھ اٹھا۔568 آخری حد کو کہتے ہیں۔اس لیے یہ لفظ معین عرصہ کے لیے وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ (۱۲۶۷) اور ہمیں ماریو تو استعمال ہوتا ہے۔جیسے۔مسلمان ہی ماریو۔وَقَتْ كَذَا: میں نے اس کے لیے اتنا عرصہ مقرر کیا۔اور تَوَفَّنِي مُسْلِمًا ﴾ (۱۲-۱۰۱) مجھے اپنی اطاعت کی ہر وہ چیز جس کے لیے عرصہ متعین کر دیا جائے موقوت حالت میں اٹھائیو۔اور آیت: کہلاتی ہے۔قرآن پاک میں ہے:۔(ان الصلوة كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتبًا مَّوْقُوْنَا (۴-۱۰۳) وَإِذَا الرُّسُلُ أَتَتْ) (۱۷۷) اور جب پیغمبر يعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعَكَ اِلَى ) بے شک نماز کا مومنوں پر اوقات (مقررہ) میں ادا کرنا (۵۵-۳) عیسی علیہ سلام ! میں تمہاری دنیا میں رہنے کی مدت فرض ہے۔پوری کر کے تم کو اپنی طرف اٹھا لوں گا۔میں بعض نے کہا ہے کہ توفی بمعنی موت نہیں ہے۔بلکہ اس اکٹھے کئے جائیں گے۔سے مدارج کو بلند کرنا مراد ہے۔مگر حضرت ابن عباس نے المیقات کسی شے کے مقررہ وقت یا اس وعدہ کے ہیں جس توفی کے معنی موت کیے ہیں۔چنانچہ ان کا قول ہے کہ اللہ کے لیے کوئی وقت متعین کیا گیا ہو۔قرآن پاک میں ہے۔تعالیٰ نے حضرت عیسی کو فوت کر کے پھر زندہ کر دیا تھا۔إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِيقَانًا (۱۷۷۸) بے وف ب) شک فیصلے کا دن مقرر ہے۔۔الوقـب کے اصل معنی چٹان ، پتھر وغیرہ میں ﴿إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ مِيقَاتُهُمْ﴾ (۴۴۔۴۰) کچھ شک گڑھا کے ہیں۔اور وقَبَ (ض) کے معنی گڑھے وغیرہ نہیں کہ فیصلے کا دن اٹھنے کا وقت ہے۔والہ میں داخل ہو کر غائب ہو جانے کے ہیں اس سے وَقَبَتِ مِيقَاتِ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ (۵۷-۵۰) سب ایک روز الشَّمْسُ ہے جس کے معنی آفتاب غروب ہونے کے مقرر کے وقت پر جمع کیے جائیں گے۔ہیں۔اور وَقَبَ الظُّلامَ کے معنی تاریکی چھا گئی اور اشیاء اور کبھی میقات کا لفظ کسی کام کے لیے مقرر کردہ مقام پر اس کے اندر غائب ہو گئیں۔قرآن پاک میں ہے:۔بھی بولا جاتا ہے۔جیسے مواقيت الحج یعنی مواضع (جو وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ (۱۱۳-۳) اور شب احرام باندھنے کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔) تاریک کی برائی سے جب اس کا اندھیرا چھا جائے۔وق د) الْوَقِيبُ: گھوڑے کے ذکر کے ایستادہ ہونے کی آواز۔وَتَدَتِ النَّارُ (ض) وُقُودًا وَوَقَدًا: آگ روشن ہونا۔وَقَبَهُ وَقبَةٌ: اس نے اسے اکٹھا کر لیا۔(وقت) الوقود: ایندھن کی لکڑیاں جن سے آگ جلائی جائے۔اور آگ کے شعلہ کو بھی وفود کہتے ہیں۔قرآن پاک میں ہے۔الْوَقْتُ: کسی کام کے لیے مقررہ زمانہ کی ﴿وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ ) (۲-۲۴) جس کا محکم دلائل وبراہین سے مزین متنوع و منفرد موضوعات پر مشتمل مفت آن لائن مکتبہ