قندیل ہدایت — Page 166
شعله استور 166 of 1460 ^^ حضرت مینی یہ کہا گیا ہے کہ رَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ " تو اس کے معنی ہرگز نہیں کہ اللہ تعالٰی کسی خاص محبت یا مقام میں ہے اور حضرت عیسی اس جہت یا مقام ( آسمان کی طرف اٹھا لئے گئے ہیں۔اللہ اللہ کی حرف) کا لفظ صرف حضرت میٹی کے متعلق ہی استعمال نہیں ہوا بلکہ متعدد دیگر مقامات پر بھی آیا ہے جہاں سے یہ حقیقت اور بھی واضح ہو جاتی ہے کہ اس سے " آسمان کی طرف اٹھا لینا " مراد نہیں ہو سکتا۔مثلاً إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (۲/۱۵۶ ) " ہم اللہ کے لئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں ؟ اس سے یہ مراد نہیں کہ اللہ کسی خاص مقام پر ہے اور ہم اس مقام کی لوٹ کر ، اسے یہ مراد پر ہےاور طرف لوٹ کر جائیں گے۔سورۃ الفرقان کی یہ آیات اس بستہ کو بالکل واضح کر دیتی ہیں۔فرمایا۔المُتَرَ إِلى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظَّلَ " وَ لَوْ شَاء لَجَعَلَهُ ساكِنَا ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَيْهِ دَلِيلة ثُمَّ قَبَضْهُ الينا قبضا سيراه (۴۶ - ۲۵/۲۵) تو نے نہیں دیکھا اپنے رب کی طرف کیسے درانہ کیا سایہ کو۔اور اگر چاہتا تو اس کو ٹھہرا رکھتا۔پھر ہم نے مقرر کیا سورج کو اس کا راہ بتانے والا، پھر کھینچ لیا ہم نے اس کو اپنی مرض سچ سچ سمیٹ کر ( ترجمہ مولانا محمود الحسن مرحوم) آپ نے غور کیا کہ اس میں الینا سے مراد کوئی خاص مقام نہیں۔اور آگے بڑھتے تخلیق انسانی یا ارتقاء کے ضمن ابلیس و آدم عنوان " انسان میں سورہ سجدہ کی وہ تعظیم المرتبت آیات درج کی جاچکی ہیں جو تدابیر البیہ کی ابتداء سے انتہا تک کے تمام ارتقائی مراحل کے متعلق بصیرت افروز حقائق اپنے اندر لئے ہوتے ہیں۔اس سلسلہ کی عمودی آیت یہ ہے۔يدبر الامر مِنَ السَّمَاء إلى الاَرضِ ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ في يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُةٌ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعدُّونَ ۳۲/۵۱٥) و (اللہ ) آسمان کی بلندیوں سے زمین کی پستی کی طرف ایک اور اسکیم کی تدبیر کرتا ہے جو (اپنے ارتقائی مراحل طے کرتی ہوئی، اس کی طرف بلند ہوتی ہے، ایسے مراحل سے جن کا عرصہ تمہارے حساب و شمار سے ہزار ہزار برس کا ہو۔