قندیل ہدایت — Page 162
162 of 1460 شعله مستور ور حضرت عینی شَهِيدًا مَّا دُمتُ فيُم (جب تک میں ان میں زندہ موجود تھا میں ان پر نگران تھا ، اس میں ما دمت فيلم " کے الفاظ غور طلب ہیں۔سورۃ مریم میں ہے کہ حضرت عیسی نے ارباب قوم کے استفسار کے جواب میں فرمایا د اوضنى بالصلوة و الركوةِ مَا دُمْتُ حَياة (١٩/٣١) کم اللہ نے مجھے صلوۃ وزکوۃ کا حکم دے رکھا ہے جب تک میں زندہ ہوں۔آیت کے آخری الفاظ (قانیت حیا، اپنی تفسیر آپ کر رہے ہیں۔اسی سورہ میں حضرت کمیٹی کے متعلق ارشاد ہے۔وسلم عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ وَيَوْمَ يَمُوتُ وَيَوْمَ يُبْعَثُ حَيَّاة (۱۹/۱۵) اور اس پر سلامتی ہے (اس کی پیدائش کے دن اسے موت کے دن (تک اور) جس دن وہ زندہ اٹھایا جائے گا۔یہی الفاظ تھوڑا اور آگے چل کر حضرت عیسی کے متعلق آتے ہیں۔والسلم على يوم ولدت و يوم أموتُ وَيَوْمَ ابعت حياه (١٩/٣٣) اور مجھ پر سلامتی ہے میری پیدائش کے دن سے موت کے دن تک اور جس دن مجھے زندہ اٹھایا جائے گا۔ان آیات سے بھی واضح ہو جاتا ہے کہ حضرت مینٹی اس دنیا میں اپنی طبیعی زندگی تک رہے۔قر آن کریم میں دو ایک مقامات ایسے بھی ہیں جہاں توٹی کے معنی موت دینے کے نہیں ہیں۔مثلاً سورۃ انعام میں ہے۔وَ هُوَ الَّذِى يَتَوَتكُم بِاللَّيْلِ وَ يَعلَمُ مَا جَرَحْتُم بِالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُم فيهِ لِيُقَضَى اَجَل مُسَمًّى (4/4۔) اور (دیکھو) وہی ہے جو رات کے وقت تم کو " وفات دے دیتا ہے (یعنی سلا دیتا ہے، اور جو کچھ تم نے دن کی حرکت و ہوس یاری میں کدو کاوش کی تھی اس سے بے خبر نہیں ہے۔