قندیل ہدایت — Page 1451
1451 of 1460 www۔sirat-e-mustaqeem۔com اسلام اور مسیحیت 201 فقرے میں جناب باری کے حضور عرض کی تھی کہ ”اے میرے باپ اگر ہو سکے تو یہ پیالہ (موت) مجھ سے گزر جائے تو بھی میری خواہش نہیں۔بلکہ تیری خواہش کے مطابق ہو۔۔۔۔۔(انجیل متی ۳۹:۲۶) اللہ اللہ ! کیسا عارفانہ کلام ہے۔مخالفوں کے ہاتھوں گرفتار ہو جانا تو قانون قدرت کے مطابق تھا۔اسے تسلیم کر کے آپ قدرت خداوندی کا واسطہ دیتے ہیں جو قانون مجریہ سے بالا تر ہے۔اس کلام با نظام کے معنی یہ ہیں کہ گرفتاری کے تمام اسباب تو مہیا ہو چکے ہیں تاہم تیری قدرت میں داخل ہے کہ تو مجھے اس مصیبت سے بچالے۔اس لئے قرآن مجید میں ارشاد ہے۔وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنَا بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللَّهُ عَزَيْزًا حَكِيمًا مسیح کو اس کے مخالفوں نے ہرگز قتل نہیں کیا۔بلکہ خدا نے اس کو اپنی طرف اُٹھا کر محفوظ کر لیا۔(پ: ع ۲) اس کی وجہ بھی بتادی کہ خدا بہت غالب ہے اور بڑی حکمتوں والا ہے۔مسیح نے اسی غلبہ قدرت کے ماتحت درخواست کی تھی جسے حسب بیان قرآن خدا نے منظور کرلیا۔اسی طرح حضرت یوسف کے ساتھ زلیخا کا تعشق قرآن میں مذکور ہے۔جس کا نتیجہ قرآن نے یہ بتایا کہ اس عورت نے حضرت یوسف کے ساتھ بدکاری کرنے کا پختہ ارادہ کرلیا تھا۔موصوف اگر خدائی برہان نہ دیکھ لیتے یعنی نور نبوت ان کے دل میں جلوہ گر نہ ہو تا تو آپ بھی ارادہ کرلیتے۔مگر انہوں نے تصرف قدرت کے ماتحت برا ارادہ نہیں کیا۔یہ مثال بتا رہی ہے کہ قوانیں قدرت جاری ہو جانے کے بعد خدا تعالیٰ میں یہ قدرت کاملہ موجود ہے کہ کوئی واقعہ قانون قدرت کے خلاف بھی پیدا کر دے اگر آپ اس کی تفصیل کو منظور نہ کریں تو کل انبیاء علیہم السلام کے معجزات کی صف لپیٹ دی جائے گی اور حضرت مسیح کی پیدائش کے متعلق انجیل کا یہ فقرہ بھی غلط یا تاویل طلب ہو جائے گا۔کہ یوسف اور مریم کے اکٹھا ہونے سے پہلے مریم روح القدس سے حاملہ پائی گئی۔--- (انجیل متی ۱۸:۱۴) قارئین! ؎ اگر اب بھی وہ نہ سمجھے تو اس بت سے خدا سمجھے باقی رہی جبریہ اور قدریہ کی بحث سورہ جائیں اور آپ جائیں۔ہم کسی خاص فرقہ