قندیل ہدایت — Page 1302
۱۰۲۵ 1302 of 1460 ۵۳:۱۴ مرقس 1025 کر کے اُس کے ٹکڑے کیے اور شاگردوں کو دے کر کہا: لو، یہ میرا میرے سامنے سے ہٹالے۔تاہم میری مرضی نہیں بلکہ تیری مرضی بدن پوری ہو۔۲۴ پھر اُس نے پیالہ لیا اور خدا کا شکر کر کے انہیں دیا اور ۳۷ پھر وہ شاگردوں کے پاس آیا اور انہیں سوتے پایا اور پطرس سے کہنے لگا: شمعون تو سورہا ہے؟ کیا تو گھڑی بھر بھی بیدار ان سب نے اُس میں سے پیا۔۲۴ اُس نے اُن سے کہا: یہ نئے عہد کا میرا وہ خون ہے جو نہ رہ سکا؟ ۳۸ جاگتے اور دعا کرتے رہوتا کہ آزمایش میں نہ پڑو۔بہتیروں کے لیے بہایا جاتا ہے۔۲۵ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ رُوح تو آمادہ ہے مگر جسم کمزور ہے۔انگور کا یہ رس تب تک نہیں پیوں گا جب تک کہ خدا کی بادشاہی میں وہ پھر چلا گیا اور اس نے وہی دعا کی جو پہلے کی تھی۔جب واپس آیا تب بھی انہیں سوتے پایا کیونکہ ان کی آنکھیں نیند نیانہ پی لوں۔اتب اُنہوں نے ایک گیت گایا اور وہاں سے زیتون کے سے بوجھل ہورہی تھیں اور وہ جانتے نہ تھے کہ اسے کیا جواب دیں۔جب وہ تیسری دفعہ اُن کے پاس واپس آیا تو اُن سے پہاڑ پر چلے گئے۔ہے کہ پطرس کے انکار کی پیش گوئی کہنے لگا: تم ابھی تک راحت کی نیند سو رہے ہو۔بس کرو، وقت يسوع نے اُن سے کہا: تم سب ڈگمگا جاؤ گے کیونکہ لکھا آپہنچا ہے۔دیکھو! ابن آدم گنہگاروں کے حوالہ کیا جا رہا ہے۔میں چرواہے کو ماروں گا، اور بھیڑیں تتر بتر ہو جائیں گی۔۴۲ ٹھو! چلیں۔دیکھو میرا پکڑوانے والا نزدیک آ پہنچا ہے۔یسوع کی گرفتاری وہ ابھی یہ کہہ ہی رہا تھا کہ یہوداہ جو بارہ شاگردوں میں سے تھا وہاں آپہنچا۔اُس کے ہمراہ بہت سے آدمی تھے جو تلواریں اور لاٹھیاں لیے ہوئے تھے اور جنہیں سردار کاہنوں ،شریعت کے ۲۸ مگر میں اپنے جی اٹھنے کے بعد تم سے پہلے گلیل پانچ عالموں اور بزرگوں نے بھیجا تھا۔جاؤں گا۔ڈگمگاؤں گا۔۴۴ ۴۵ یہوداہ یعنی پکڑوانے والے نے انہیں یہ نشان دیا تھا ۲۹ پطرس نے اس سے کہا: خواہ سب ڈگمگا جائیں، میں نہیں کہ جس کا میں بوسہ لوں وہی یسوع ہے، ہم اسے پکڑ لینا اور حفاظت سے لے جانا۔وہاں آتے ہی وہ یسوع کے نزدیک گیا اور کہا: یسوع نے کہا: میں تجھ سے سچ کہتا ہوں کہ آج اسی رات کے ربی اور اُس کے بوسے لینے لگا۔۴۶ اس پر انہوں نے یسوع مُرغ کے دوبار بانگ دینے سے پہلے تو تین بار میرا انکار کرے گا۔کو پکڑ کر اپنے قبضہ میں لے لیا۔۴۷ جو لوگ پاس کھڑے تھے اُن ۳۱ لیکن اُس نے بڑے جوش میں آکر کہا: اگر تیرے ساتھ میں سے ایک نے اپنی تلوار کھینچی اور سردار کا ہن کے نوکر پر حملہ کر مجھے مرنا بھی پڑے تب بھی تیرا انکار نہ کروں گا اور سارے کے اُس کا کان اُڑا دیا۔شاگردوں نے بھی یہی کہا۔بارية التمني ۴۸ یسوع نے اُن سے کہا : کیا میں کوئی ڈاکو ہوں کہ تم مجھے تلواریں اور لاٹھیاں لے کر پکڑنے آئے ہو؟ ۴۹ میں تو ہر روز ۳۲ پھر وہ ایک ایسی جگہ پہنچے جس کا نام قسمتی تھا اور اس ہیکل میں تمہارے پاس ہی تعلیم دیا کرتا تھا اور تم نے مجھے نہیں نے اپنے شاگردوں سے کہا: جب تک میں دعا کرتا ہوں تم یہیں پکڑا لیکن یہ اس لیے ہوا کہ پاک کلام کی با تیں پوری ہو جائیں۔بیٹھے رہنا۔۳۳ اور خود پطرس ، یعقوب اور یو حتا کو ساتھ لے گیا ۵۰ اس دوران سارے شاگرد سے چھوڑ کر بھاگ گئے۔اور بہت پریشان اور بیقرار ہونے لگا۔۳۴ اور اُن سے کہا: غم کی لیکن ایک جوان جو صرف مہین سی چادر اوڑھے ہوئے شدت سے میری جان نکلی جارہی ہے۔تم یہاں ٹھہرو اور جاگتے رہو۔تھا، یسوع کا پیچھا کرنے لگا۔لوگوں نے اُسے پکڑا ۵۲ اور وہ اپنی ۳۵ پھر ذرا آگے جا کر وہ زمین پر سجدہ میں گر پڑا اور دعا چادر چھوڑ کر نگا ہی بھاگ نکلا۔کرنے لگا کہ اگر ممکن ہو تو یہ گھڑی مجھ سے ٹل جائے۔۳۶ اور عدالت عالیہ میں یسوع کی پیشی کہا: ابا ! اے باپ! تیرے لیے سب کچھ ممکن ہے۔اس پیالہ کو ۵۳ تب وہ یسوع کو سردار کاہن کے پاس لے گئے۔وہاں ۵۱