قندیل ہدایت — Page 1301
۱۰۰۲ 1301 of 1460 متی ۲۷:۲۶ 1002 میرا بدن ہے۔ا جاگتے اور دعا کرتے رہو تا کہ آزمایش میں نہ پڑو، روح تو ۲۷ پھر اُس نے پیالہ لیا، خدا کا شکر ادا کیا اور انہیں دے کر آمادہ ہے مگر جسم کمزور ہے۔۴۲ وہ پھر چلا گیا اور دعا کرنے لگا: کہا: تم سب اس میں سے ہیں ، ۲۸ کیونکہ یہ نئے عہد کا میرا وہ خون کے میرے باپ ! اگر یہ پیالہ میرے پیے بغیر ٹل نہیں سکتا تو تیری ہے جو بہتیروں کے گناہوں کی معافی کے لیے بہایا جاتا ہے۔مرضی پوری ہو۔۲۹ میں تم سے کہتا ہوں کہ میں انگور کا یہ رس پھر کبھی نہ پیوں گا جب جب واپس آیا تو شاگردوں کو پھر سے سوتے پایا کیونکہ تک کہ خدا کی بادشاہی میں تمہارے ساتھ نیا نہ پی لوں۔اُن کی آنکھیں نیند سے بوجھل ہو چکی تھیں۔۴۴ لہذا وہ انہیں ۳۰ تب اُنہوں نے ایک گیت گایا اور وہاں سے کوہ زیتون چھوڑ کر چلا گیا اور تیسری دفعہ وہی دعا کی جو پہلے کی تھی۔پر چلے گئے۔پطرس کے انکار کی پیش گوئی ۴۳ ۴۵ اُس کے بعد شاگردوں کے پاس واپس آکر اُن سے کہنے لگا تم ابھی تک راحت کی نیند سور ہے ہو؟ بس کرو، دیکھو! وہ اس تب یسوع نے اُن سے کہا: تم اُسی رات میری وجہ سے وقت آپہنچا ہے کہ ابن آدم گنہگاروں کے حوالہ کیا جائے۔۴۶ ٹھو، ڈگمگا جاؤ گے کیونکہ لکھا ہے: میں چرواہے کو ماروں گا، اور گلے کی بھیڑیں بیشتر بتر ہو جائیں گی۔جاؤں گا۔چلو، دیکھو میرا پکڑوانے والا نزدیک آ پہنچا ہے۔۴۷ خداوند یسوع کی گرفتاری ے وہ یہ باتیں کہہ ہی رہا تھا کہ یہوداہ جو بارہ شاگردوں میں سے تھا وہاں آپہنچا۔اُس کے ہمراہ بہت سے آدمی تھے جو تلوار میں اور لاٹھیاں لیے ہوئے تھے اور جنہیں سردار کاہنوں اور ۳۲ مگر میں اپنے جی اٹھنے کے بعد تم سے پہلے کھیل پہنچ قوم کے بزرگوں نے بھیجا تھا۔۴۸ اس کے پکڑوانے والے نے انہیں یہ نشان دیا تھا کہ جس کا میں بوسہ لوں وہی یسوع ہے۔تم ۳۳ پطرس نے جواب دیا: خواہ تیری وجہ سے سب لڑکھڑا اُسے پکڑ لینا۔اُس نے یسوع کے پاس آتے ہی کہا: ربی، سلام ، اور اُس کے بوسے لیے۔جائیں ، میں نہیں لڑکھڑاؤں گا۔۳۴ یسوع نے کہا: میں تجھ سے سچ کہتا ہوں کہ آج اسی رات ۵۰ یسوع نے اُس سے کہا:میاں! جس کام کے لیے تو آیا سے مُرغ کے بانگ دینے سے پہلے تو تین بار میرا انکار کرے گا۔ہے، کرلے۔۳۵ لیکن پطرس نے کہا: اگر تیرے ساتھ مجھے مرنا بھی پڑئے چنانچہ لوگوں نے آگے بڑھ کر یسوع کو پکڑا اور قبضہ میں لے تب بھی تیرا نکا نہ کروں گا وہ یہی ہے یا گروں نے بھی یہی کہا لیا۔ان مینوع کے ساتھیوں میں سے ایک نے اپی تلوار نیچی ار باغ سمنی ۵۱ سردار کا ہن کے نوکر پر چلائی اور اُس کا کان اُڑا دیا۔تب یسوع اپنے شاگروں کے ساتھ ایک جگہ پہنچا جس ۵۲ یسوع نے اُس سے کہا: تلوار کو نیام میں رکھ لے کیونکہ جو کا نام قسمتی تھا۔اُس نے اُن سے کہا تم یہاں بیٹھو اور میں وہاں تلوار چلاتے ہیں، تلوار ہی سے ہلاک ہوں گے۔۵۳ تجھے پتہ نہیں آگے جا کر دعا کرتا ہوں۔وہ پطرس اور زبدی کے دونوں کہ اگر میں اپنے باپ سے مدد مانگوں تو وہ اسی وقت فرشتوں کے بیٹوں کو ساتھ لے گیا اور افسردہ اور بیقرار ہونے لگا۔۳۸ پھر اس بارہ لشکر بلکہ اُن سے بھی زیادہ میرے پاس بھیج دے گا۔۵۴ لیکن نے اُن سے کہا غم کی شدت سے میری جان نکلی جا رہی ہے۔یہاں پھر پاک کلام کی وہ باتیں جن کا پورا ہونا ضروری ہے کیسے پوری ٹھہر واور جاگتے رہو۔۳۹ پھر ذرا آگے جا کر وہ زمین پر سجدہ میں گر پڑا اور دعا ۵۵ پھر یسوع نے ہجوم سے کہا: کیا میں کوئی ڈاکو ہوں کہ تم کرنے لگا کہ اے باپ! اگر ممکن ہو تو یہ پیالہ مجھ سے مل جائے، تلواریں اور لاٹھیاں لے کر مجھے پکڑنے آئے ہو؟ میں ہر روز ہیکل میں پھر بھی جو میں چاہتا ہوں وہ نہیں بلکہ جو تو چاہتا ہے وہی ہو۔بیٹھ کر تعلیم دیا کرتا تھا، تب تو تم نے مجھے گرفتار نہیں کیا ؟ ۵۶ لیکن ۴۰ جب وہ شاگردوں کے پاس واپس آیا اور انہیں سوتے یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ پاک کلام میں نبیوں کی لکھی ہوئی باتیں ہوں گی؟ پایا تو پطرس سے کہا: کیا تم گھنٹہ بھر بھی میرے ساتھ بیدار نہ رہ سکے؟ پوری ہو جائیں۔تب سارے شاگر دا سے چھوڑ کر بھاگ نکلے۔