قندیل ہدایت — Page 1276
1276 of 1460 طرح حضور بو تراب کے ایک ارادت مند نے اللہ تعالٰی کو دیکھ لیا لیکن بایزید کا حوصلہ نہ ہو سکا، پھر حضرت بایزید نے فرمایا کہ جو کچھ میں نے مشاہدہ کیا اس سے یہ اندازہ ہو گیا کہ جب تک خودی کا ازالہ نہ ہو جائے خدا کاراستہ ملنا محال ہے اور جب میں نے سوال کیا کہ میں نے اپنی خودی کا ازالہ کس طرح کروں ؟ تو جواب ملا کہ یہ مقام صرف اتباع نبوی ہی سے حاصل ہو سکتا ہے۔حضرت مصنف کہتے ہیں کہ مجھے حیرت ہے کہ جو بزرگان دین و قار نبوی سے اس درجہ باخبر ہوں کہ ان کے اقوال سے لوگ ایسا مفہوم کیوں اخذ کر لیتے ہیں جس میں حضور اکرم کی تحقیر کا پہلو نکلتا ہو، جیسا کہ حضرت بایزید سے پوچھا گیا کہ کیا تمام مخلوق قیامت میں حضور اکرم کے علم کے نیچے ہوگی ، فرمایا کہ قسمیہ کہتا ہوں کہ میرے علم کے نیچے مخلوق کے علاوہ انبیاء کرام بھی ہوں گے لیکن لوگوں نے یہ مفہوم اخذ کر لیا کہ بایزید نے خود کو حضور اکرم سے بھی زیادہ افضل تصور کر لیا لیکن یہ مفہوم سمجھنا ایک معمل کی بات ہے بلکہ امر واقعہ یہ ہے کہ آپ نے اللہ تعالی تک اس حد تک رسائی حاصل کر لی تھی کہ آپ کی زبان خدا کی زبان بن چکی تھی اور آپ کا قول حقیقت میں اللہ کا قول تھا اور یہ بھی تسلیم کر لینا چاہئے کہ ہوائی اعظم من لواء محمد یا سبحانی ما اعظم شانی جیسے کلمات آپ کی زبان سے نکلے لیکن در حقیقت خدا تعالیٰ نے آپ کی زبان سے گفتگو فرمائی۔حضرت بایزید رحمتہ اللہ علیہ کی مناجات آپ اپنی مناجات میں یہ کہا کرتے تھے کہ اے اللہ ! میرے اور اپنے درمیان سے دوئی کا حجاب ختم فرما دے تاکہ میں تیری ذات میں فنا ہو جاؤں ، اے اللہ ! جب تک میں خودی میں جتلار ہا سب سے اونی رہا لیکن جب تیری معیت نصیب ہوئی اس وقت میں سب سے اعلیٰ ابر تر ہو گیا۔اللہ فقر فاقہ سے تیرا قرب حاصل ہوا اور تیرے الطاف کریمانہ نے میرے فقر و فاقہ کو نیست و نابود کر دیا۔اے اللہ ! میں علم و زہد نہیں چاہتا اپنے رموز مجھ پر آشکار افرما دے۔اے اللہ ! تیرے ہی فضل نے مجھے مجھ سے روشناس کیا اور اس لئے میں تجھ پر ناز کرتا ہوں۔اے اللہ اقلب کے لئے بہترین شے تیرا الہام اور غیب کی راہوں میں سب سے افضل تیر انور ہے۔اور سب سے عمرہ ہے وہ حالت جس کا انکشاف مخلوق کے لئے دشوار ہے اور بہترین ہے وہ زبان جو تیرا وصف بیان کرنے سے قاصر رہے کیوں کہ اگر انسان تیرے اوصاف بیان کرنا چاہے تو پوری زندگی میں تیرے اوصاف کا معمولی ساحصہ بھی بیان نہیں کر سکتا۔اے اللہ ! یہ بات تعجب خیز نہیں کہ میں تجھ کو اپز دوست تصور کرتا ہوں بلکہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ تو مجھ کو اپنا دوست سمجھتا ہے کیوں کہ مختار کل اور صاحب قوت ہے اور میں ایک کمزور و محتاج بندہ ہوں اے اللہ ! میں تجھ سے خوفزدہ رہتا تھا لیکن تو نے اپنے کرم سے میرا خوف دور کر دیا جس کی وجہ سے میں ہمہ اوقات مسرور شادماں رہتا ہوں۔اور تو نے مجھے اپنی بارگاہ میں ریا اسی وجہ سے میں ہر وقت مسرور شاداں رہتاہوں۔اور تو