قندیل ہدایت — Page 1275
1275 of 1460 ۱۱۷ دوست نہیں رکھتا بلکہ وہ مجھے دوست رکھتا ہے۔فرمایا کہ دوسرے لوگوں نے تو مردوں سے علم حاصل کیا لیکن میں نے ایسی زندہ ہستی سے علم سیکھا کہ جس کو موت ہی نہیں ہے۔فرمایا کہ جب میں نے نفس کو اللہ کی جانب راغب کرنا چاہا اور وہ راغب نہ ہوا تو میں اس کو بھی چھوڑ کر خدا کی حضوری میں پہنچ گیا۔فرمایا کہ جب مجھے آسمان کی سیر کرائی گئی اور عالم ملکوت میرے مشاہدے میں آگیا، تو مجھے وہاں سے رضا و محبت حاصل ہو گئے۔فرمایا کہ مجھے یہ مرتبہ اس لئے حاصل ہوا کہ جس عضو کور جوع الی اللہ نہ پایا اس سے کنارہ کش ہو کر دوسرے عضو سے کام نکالا۔فرمایا کہ خداشناسی کے بعد میں نے خدا کو اپنے لئے کافی سمجھ لیا۔فرمایا کہ بہت عرصہ سے نماز میں مجھے خیال آتا ہے کہ میرا قلب مشرک ہے اور اس کو زنار کی ضرورت ہے۔فرمایا کہ عورتیں مجھ سے اس لئے افضل ہیں کہ وہ ماہواری کے بعد غسل کر کے پاک صاف ہو جاتی ہیں لیکن مجھے تمام عمر غسل کرتے بیت گئی مگر پاکی حاصل نہ ہو سکی فرمایا کہ اگر پوری زندگی میں مجھ سے ایک نیک کام بھی ہو جاتا تو میں خوفزدہ نہ رہتا۔فرمایا کہ اگر روز محشر میں یہ سوال کیا جائے کہ تو نے فلاں کام کیوں کیا تو میں اس کو بہتر تصور کرتا ہوں کہ یہ پوچھا جائے کہ تو نے فلاں کام کیوں نہ کیا۔فرمایا کہ اللہ مخلوق کے بھیدوں سے خوب واقف ہے اور ہر بھید کی جانب نظر ڈال کر فرماتا ہے کہ میں اس کو اپنی محبت سے خالی پاتا ہوں لیکن بایزید کے بھید کو اپنی محبت میں فرق دیکھتا ہوں۔فرمایا کہ میں نے خواب دیکھا کہ میں خدا کی توحید سے زیادہ کا طلب گار ہوں، لیکن بیداری کے بعد میں نے عرض کیا کہ مجھے تیری توحید سے بڑھ کر کچھ نہیں چاہئے۔فرمایا کہ اللہ تعالی نے سوال کیا کہ کیا خواہش رکھتے ہو ؟ میں نے عرض کیا جو میرے لائق ہو۔فرمایا گیا کہ خود کو چھوڑ کر چلے آؤ۔فرمایا کہ لوگ مجھے اپنے جیسا خیال کرتے ہیں حالانکہ عالم غیب میں میرے اوصاف کا مشاہدہ کر لیں تو مر جائیں کیوں کہ میں ایک ایسے سمندر کی طرح ہوں جس کی گہرائی کی نہ ابتدا ہے نہ انتہا۔عرش کی حقیقت کے متعلق کسی نے آپ سے سوال کیا تو فرمایا کہ عرش تو میں خود ہوں۔پھر کری کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ کرسی بھی میں خود ہوں اور پھر قلم کے متعلق بھی یہی فرمایا۔اس کے بعد سائل نے کہا کہ اللہ تعالٰی کے تو اور بھی بہت سے مقرب بندے ہیں مثلاً حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بھی آپ نے یہی فرمایا کہ وہ بھی میں ہی ہوں۔پھر سائل نے ملائکہ کے لئے پوچھا تو جب بھی یہی فرمایا کہ وہ بھی میں ہی ہوں، یہ جواب سن کر جب وہ خاموش ہو گیا تو آپ نے فرمایا کہ حق میں فنائیت کے بعد تمام چیزوں کو اپنی ہی بستی میں خم پاتا ہوں اس لئے کہ حق میں سب چیزیں موجود ہیں۔حضرت بایزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ کے معراج کی کیفیت آپ فرماتے ہیں کہ جس وقت مجھے تمام موجودات سے بے نیاز کر کے خدا نے اپنے نور سے منور فرمایا www۔maktabah۔org