قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 871 of 1460

قندیل ہدایت — Page 871

of 1460 حکم کر دینگے اسلئے کہ در حقیقت ہو سکے خلیفہ میں انتقئے اشاعه بین بعد اور سکے کہا ہی انتهى ما أردنا نقله عن كلام الشيخ العلامة على القارى الحنفى مم وهو فى غاية النفاسة بين كتابون یہ مسئلہ حافظ ابن حجر سے پوچھا گیا تو یہ جواب ما اگر کسی منفی سے پوچھا جاتا تو وہ یہی جواب دیا کہ کتب شیری شاگرد خضر شاگرد امام اعظم سے ملتی کرینگے ان مساوی خاوی میں کچھہ زیادت بھی بہت تنا سے مقام گز ریکی ہے وہ اصل کلام علی قاری سے صلحدہ ہے چہر علی قاری نے اس قول کا بھی رو لکھا ہے کہ محمدی مقلد ابو حنیفہ ہونگے اور شافیہ ذکر کر کے یہ بات قرار دی ہے کہ مہدی علیہ السلام مجتہد مطلق ہونگے صاحب اشاعہ نے کہا یہ تقریر نے مخالف تحریر فتوحات کے ہے ان المهدى لا بعلم القياس ليحكم وانا يسلمه لتجنبه فما يي كبد المهدى لا بما يلقى اليه الملك من عند الله الذي بعثه اليه ليسد د لا وذلك هو الشرع الحنيفي المحمدى الذى لو كان محمد صالم حياو ر تحت اليه تلك النازلة لو يحكم فيها لا بحكم المهدى فيعلم ان خدلك هو الشرع المحمدى فيهم عليه القياس مع وجود النصوص التي متحد الله اياها و انه قال صلم في صنعته يقفواثرى ولا يخطى فعرفنا انه متبع لما شرع انتهى اس بنیاد پر عمدہی محبتدر ہو نگے اسلئے کہ مجرد حکم ساتہ قیاس کے کرتا ہے اون پر یہ امر حرام ہوگا مجتہد سے خطا ہوتی ہے اسے کبھی خانودگی ہیں احکام میں معصوم ہونگے شہادت نبی صلہ یہ بات اس بات پر مبنی ہے کہ اجتہاد کرنی حتی انبیا رمین جائز نہين وهو التحقيق وبالله التوفيق انتهى كلام الاشاعة مین کہتا ہوں کلام اشاہ وکلام منتوجات سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ جب امام علیہ السلام ظاہری کات در محمدی المذہب ہونگے قرآن وحدیث پر عمل کرینگے نہ آپ کس طرح کا قیاس کرین نہ دوسرے کے قیاس پر چلین قیاس کی حاجت کیا ہے ادلۂ خاصہ وعامہ کتاب و