قندیل ہدایت — Page 527
۴۱۰ 527 of 1460 اور ہم پر اپنے لئے مقام وسیلہ کے سوال کے حرام ہونے کی تائید اس مسئلہ سے بھی ہوتی ہے جسے علماء کرام نے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے خصائص میں ذکر فرمایا ہے کہ اس خاتون کو نکاح کا پیغام دینا حرام ہے جس کیلئے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس کے ولی کو تعریض فرمائی ہو کہ اس کا نکاح آپ سے کر دے۔اس لئے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پیش کش قبول کرنے سے رک گئے جبکہ انہوں نے اپنی بیٹی حفصہ سے نکاح کرنے کو کہا اور صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو حصہ کا ذکر فرماتے ہوئے سنا۔انہی۔امام شعرانی فرماتے ہیں کہ میں نے مصر میں فتوحات کے نسخوں میں سے ایک نسخے میں یہ عبارت لکھی ہوئی دیکھی کہ ہر مسلمان کیلئے جائز ہے کہ اپنے لئے مقام وسیلہ کا سوال کرے کیونکہ رسول پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اسے اپنے لئے معین نہیں فرمایا۔اور شاید میران نسخوں میں سے ہے جن میں شیخ پر جھوٹی باتیں درج کی گئیں۔یا آپ نے اس سے رجوع فرمایا لیا۔دلیل یہ ہے کہ آپ نے ۳۳۷ ویں باب میں فرمایا ہے کہ جنت میں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا مرتبہ وہ مقام وسیلہ ہی ہے جس سے تمام جنتیں بطور فرع نکلتی ہیں۔اور یہ جنت عدن میں دار المقامہ ہے اور اس کا جنتوں میں سے ہر جنت میں شعبہ ہے۔اور اس شعبہ سے اس جنت والوں کیلئے حضور صلی اللہ علیہ والہ مسلمہ خامہ ہوں گے ار یہ ہر جنت میں سب سے عظیم مقام ہے۔انتھی۔پس اس جھوٹی بات کو شیخ کی طرف منسوب کرنے اور یوں آپ پر امیہ ان کرنے سے پر ہیز کر۔واللہ علم۔نبوت اور رسالت تینتیسویں بحث ۳۳ ویں بحث نبوت اور رسالت کی ابتداء اور ان دونوں کے درمیان فرق کے بیان ہیں۔اور ایک زمانے میں بیک وقت دو رسولوں کی ایک ساتھ رسالت کے امتناع کے بیان میں اور اس مسئلہ کا بیان کہ ہر رسول خلیفہ نہیں۔علاوہ ازیں دیگر نفیس مسائل جو کہ کسی کتاب میں نہیں پائے جاتے۔اے بھائی ! جان لے کہ حدیث صحیح میں وارد ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر وحی کی ابتداء سب سے پہلے پچی خواب سے ہوئی۔اگر تو کہے کہ آغاز وحی کی حقیقت کیا ہے؟ تو جیسا کہ شیخ نے فتوحات کے ۷۳ ویں باب میں مذکور ۲۵ ویں جواب میں فرمایا ہے کہ آغاز وجی سے مراد معانی مجروہ عقلیہ کو قوالب حسیہ مقیدہ کی صورت میں بارگاہ خیال میں نازل کرنا ہے، برابر ہے کہ نیند میں ہو یا بیداری میں۔اگر تو کہے کہ جب تو یہ ان چیزوں سے ہے جن کا اور اک جس کے ساتھ ہوتا ہے۔تو جواب یہ ہے کہ ہاں۔یہ مدرکات حس اور حضرت محسوس سے ہے جیسے کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول میں ہے فتمثل لها بشرا سويا (مریم آیت ۱۷۔پس وہ اس کے سامنے پورے انسان کی شکل میں ظاہر ہوا۔شیخ محی الدین فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بارگاہ خیال میں علم کا ادراک دودھ کی صورت میں فرمایا۔اور اسی لیئے آپ اپنی خواب کی تعبیر اس کے ساتھ فرماتے تھے۔اور اجزائے نبوت ناما سے یہی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے امت پر باقی رکھا کیونکہ مطلقا فیض نبوت مرفوع نہیں ہوا۔نبوت شریعت مرفوع ہوئی ہے۔جیسے کہ حدیث پاک میں ہے من حفظ القرآن فکانما ادرجت النبوة بين جنبيه - یعنی جس نے قرآن کریم حفظ کیا گویا اس کے دونوں پہلوؤں کے درمیان فیض نبوت کا چشمہ جاری کر دیا