قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 528 of 1460

قندیل ہدایت — Page 528

528 of 1460 گیا۔تو بلا شک اس منہ سے نبوت کا فیض قائم ہے اور حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اس ارشاد کہ فلا نبی بعدی ولا رسول کے مفہم ہے ہے کہ میرے بعد کوئی اور شریعت جاری کرنے والا نہیں۔اقول وباللہ التوفیق شیخ اکبر قدس سرہ العزیز کی مذکورہ بالا عبارت سے یہ قطعا ثابت نہیں ہوتا کہ آپ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے عد کسی اور نبی کے مبعوث ہونے کے قائل ہیں۔حاشا و کلا۔بلکہ جیسا کہ مذکورہ ترجمہ سے بھی واضح ہے اس سے پہلے شیخ نے اس بحث میں تفصیل سے بیان کیا ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام اور اولیاء اللہ دراصل حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہی کے نائب ہیں۔جس سے صاف ظاہر ہے کہ آپ کسی جدید نبی کی بعثت کے امکان کا ذکر نہیں کر رہے بلکہ یہ بتارہے ہیں کہ اہل اللہ اورا کا بر اسلام سے جو حقائق و معارف ظاہر وئے اور ہور ہے ہیں یہ آقاد مولی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی عالمگیر نبوت ورسالت ہی کا فیض ہے۔آپ خاتم العین ہیں۔آپ کے بعد کسی بی کی بعثت کا کوئی تصور نہیں۔آپ آخری نبی ہیں۔صلی اللہ علیہ والہ وسلم۔اور فائدہ نام کیلئے یہاں من وعن وہی الفاظ نقل کئے دیتا ہوں جو سئلہ ختم نبوت کے بارے میں اپنے عظیم اور مبسوط فتوی میں شیخ الاسلام عمدۃ الفقہا الاعلام حضرت الامام احمد رضا بریلوی علیہ رحمتہ المولی لقوی نے بیان فرمائے جس کا نام ہے جزاء اللہ عدوہ بابا ہ ختم النبوہ فرماتے ہیں اللہ عز وجل سچا اور اس کا کلام سچا مسلمان پر جس طرح لا ہ الا اللہ مانا، اللہ بحانہ و تعالیٰ کو احد محمد لاشریک لہ جاننا فرض اول اور مناط (مدار) ایمان ہے یو بی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو خاتم نہیں ماننا۔ان کے زمانے میں، خواہ ان کے بعد کسی نبی جدید کی بعثت کو یقیناً قطعا محال اور باطل جاننا فرض اجل اور جزوایمان ہے۔لیکن سول اللہ و خاتم النبین نص قطعی قرآن ہے۔اس کا منکر ، نہ صرف منکر بلکہ شرک کرنے والا ، نہ شاک ( شک کرنے والا ) کہ ضعیف احتمال فیف سے تو ہم خلاف رکھنے والا قطعاً کافر ملعون مخلہ فی النیران ( جہنم میں ہمیشہ رہنے والا) ہے۔نہ ایسا کہ وہی کا فر ہو بلکہ جو ں عقیدہ ملعونہ پر مطلع ہو کہ اسے کافر نہ جانے وہ بہی کا فر۔جو اس کے کافر ہونے میں شک و تردد کو راہ دے وہ بھی کافر۔بین کافر جلی کمران ہے۔الناقل محمد محفوظ الحق غفرلہ، والوالد یہ ) تلف سوالات اور ان کے جوابات اگر تو کہے کہ سچا خواب نبوت کے چھیالیس اجزاء میں سے ایک جزء ہے۔اس عدد کی کیا حکمت ہے؟ تو جواب یہ ہے کہ اجزاء کی اس رد کے ساتھ تخصیص کی وجہ یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نبوت ۲۳ سال تھی جبکہ بچے خواب چھ ماہ اور چھ ماہ کی ۲۳ سال کے ساتھ نسبت ۴۶ اجزاء میں سے ایک جزء ہے۔پس لازم نہیں کہ یہ اجزاء ہرنبی کی نبوت کیلئے ہوں۔پس کبھی ایک نبی کی طرف اس سے زائد وحی بھی گئی ہے تو اجزاء اس کے مطابق پچاس ساٹھ یا زائد ہوں گے۔واللہ اعلم۔اگر تو کہے کہ کیا مقام ولایت، نبوت کے مقام کے لوازم میں سے ہے یا یہ کوئی اور وصف ہے جو کہ انبیاء کیلئے نہیں ہے؟ تو اس کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں کیلئے ولایت یہ فلک محیط عام ہے اور یہ دائرہ کبری ہے۔اور اس کے حکم اور اس کی حقیقت میں یہ ہے کہ لہ تعالی اپنے بندوں میں سے جس کیلئے چاہے رسالت یا نبوت یا ایمان اور ولایت مطلقہ کے اس طرح کے دیگر احکام کے ساتھ دوستی ماتا ہے اور ہر رسول کیلئے ضروری ہے کہ نبی ہو۔جبکہ ہر نبی کیلئے ضروری ہے کہ ولی ہو اور ہر ولی کیلئے لازم کہ صاحب ایمان ہو۔اگر تو کہے کہ حکم رسالت اور نبوت کس وقت تک رہتا ہے؟ تو جواب یہ ہے کہ رسالت تو لوگوں کے جنت یا دوزخ میں داخل ہونے تک رہتی ہے۔رہی نبوت تو اس کا حکم آخرت میں باقی رہتا ہے۔اس کا حکم دنیا کے ساتھ خاص نہیں۔