قندیل ہدایت — Page 444
444 of 1460 www۔kitabosunnat۔com مفردات القرآن۔جلد 2 آسان ہے۔337 طرف اشارہ ہے۔اور آیت : ﴿ مَالِ هَذَا الْكِتبِ لا اور خدا ایسا نہ تھا۔کہ جب تک تم ان میں تھے انہیں عذاب يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَلا كَبِيرَةً إِلَّا أَحْصَهَا﴾ (۱۸-۴۹) دیتا۔کی طرف اشارہ ہے۔اور آیت : ہائے شامت ! یہ کیسی کتاب ہے نہ چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے وقُل لَّن يُصِيبَنَا إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَنَا﴾ (۹-۵۱) اور نہ بڑی کو ( کوئی بات بھی نہیں) مگر اسے لکھ رکھا ہے۔میں کہہ دو کہ ہم کو کوئی مصیبت نہیں پہنچ سکتی بجز اس کے جو خدا الکتاب سے لوگوں کے اعمال نامے مراد ہیں اور آیت کریمہ نے ہمارے لیے لکھ دی ہو۔﴿إِلَّا فِي كِتَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَّبْرَأَهَا (۵۷-۲۲) میں کتب کے معنی مقدر اور فیصلہ کرنا کے ہیں اور یہاں مگر پیشتر اس کے کہ ہم اس کو پیدا کریں ایک کتاب میں علینا کی بجائے لٹا کہنے سے اس بات پر تنبیہ ہے کہ جو (لکھی ہوئی ہے۔) مصیبت بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں پہنچتی ہے اسے میں بعض نے کہا ہے کہ ”کتاب“ سے لوح محفوظ کی طرف ہم اپنے لیے نعمت سمجھتے ہیں۔اور قسمت خیال نہیں کرتے اشارہ ہے۔چنانچہ اسی معنی میں فرمایا: ﴿إِنَّ ذلِكَ فِی اور آیت: وادْخُلُوا الْأَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِي کتابِ إِنَّ ذلِكَ عَلَى اللهِ يَسِيرٌ (۲۲-۷۰) یہ كَتَبَ اللهُ لَكُمْ (۲۱۵) ( تو بھائیو ) تم ارض مقدس سب کچھ کتاب میں لکھا ہوا ہے بے شک یہ سب خدا کو (یعنی ملک شام) جسے خدا نے تمہارے لیے لکھ رکھا ہے۔چل داخل ہو۔میں بعض نے كَتَبَ الله کے معنی ﴿وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَبٍ مُّبِينٍ وَهَبَهَالَكُمْ کئے ہیں یعنی جو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا (۵۹-۶) کوئی تر یا خشک چیز نہیں۔مگر کتاب روشن میں کی تھی۔اور پھر تمہارے وہاں نہ جانے اور اس عطا الہی کو لکھی ہوئی ہے۔قبول نہ کرنے کے باعث اللہ تعالیٰ نے وہ زمین ان پر فِي الْكِتَبِ مَسْطُورًا) (۱۷-۵۸) یہ کتاب حرام کر دی۔اور بعض نے کہا ہے کہ كَتَبَ اللهُ لَكُمْ ( یعنی تقدیر میں ) لکھا جا چکا ہے۔اور آیت : کے معنی یہ ہیں۔کہ اللہ تعالیٰ سے تمہارے حق میں اس کا ولَوْلا كِتُبُ مِنَ اللهِ سَبَقَ (۸۸) اگر خدا کا فیصلہ کر دیا تھا۔بشرطیکہ تم وہاں چلے جاتے اور بعض نے حکم پہلے نہ ہو چکا ہوتا۔کتب کے معنی اوجب کیے ہیں یعنی اللہ تعالٰی نے وہاں کے معنی یہ ہیں کہ اگر یہ بات حکمت الہی میں مقدر نہ ہو چکی چلے جانا تم پر واجب کر دیا تھا اور پھر عَلَيْكُمْ کی بجائے ہوتی لہذا یہ آیت۔لَكُم اس لیے کہا ہے کہ وہاں چلے جانے میں ان کے وكَتَبَ رَبِّكُمْ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ ) (۵۲۶) دنیوی اور اخروی دونوں قسم کے فوائد مضمر تھے اس لیے خدا نے اپنی ذات پاک پر رحمت کو لازم کر لیا، کی طرف وہاں چلے جانا کم ہوگا نہ کہ عَلَيْكُمْ جیسا کہ مثلاً کوئی اشارہ ہوگا اور بعض نے کہا ہے کہ یہ۔شخص کسی بات کو نقصان دہ خیال کرتا ہو مگر مال کے اعتبار وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ الله (۸-۳۳) سے جو فوائد اس میں پنہاں ہیں اس سے غافل اور بے خبر محکم دلائل وبراہین سے مزین متنوع و منفرد موضوعات پر مشتمل مفت آن لائن مکتبہ