قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 435 of 1460

قندیل ہدایت — Page 435

435 of 1460 AD تو پھر سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور کسی کو افراد مقصود بالخلق میں سے مماثل نبوی صلی اللہ علیہ وسلم نہیں کہ سکتے بلکہ اس صورت میں فقط ابنیاء کی افراد خارجی ہی پر آپ کی فضیت ثابت نہ ہوگی، افراد مقدرہ پر بھی آپ کی افضیلت ثابت ہو جائے گی۔بلکہ اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔چہ جائیکہ آپ کے معاصر کسی اور زمین میں یا فرض کیجئے اسی زمین میں کوئی اور نبی تجویز کیا جائے۔بالا ثبوت اثر مذکور ہونا مثبت خاتمیت ہے معارض و مخالف خاتم النبیین بنیں جو یوں کہا جائے کہ یہ اثر شاذ بمعنی مخالف روایت ثقات ہے اور اس سے یہ بھی واضح ہو گیا ہوگا کہ حسب مزعوم منکر ان اثر اس اثر میں کوئی علت غامضہ بھی نہیں ہو اسی راہ سے انکار صحت کیجئے کیونکہ اول تاہم بیہقی کا اس اڑ کی نسبت صحیح کہنا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ اس میں کوئی علت غامضہ خفیہ فاوحہ فی الصحہ نہیں۔دو کے مشدود تھا تو یہی تھا کہ مخالفت حملہ خاتم النبیین ہے اور علت تھی تب سی تھی، اگر اور کوئی آیت یا حدیث ایسی ہوتی جس سے سات سے کم زیادہ زمینوں کا ہونا یا اختیار کا کم وبیش ہونا یا نہ ہونا ثابت ہوتا تو کہہ سکتے تھے کہ وجہ شدہ ذیہ ہے۔مگر آج تک نہ کسی نے ایسی آیت و حدیث سنی نہ مدعیوں نے پیش کی۔علی ہذا القیاس مضمون علت قادمہ کو خیال فرمایئے آج تک سوائے مخالفت مضمون مذکور کسی نے کوئی وجہ قادح فی الاثر المذکورہ پیش نہیں کی اور فقط احتمال بے دلیل اس باب میں کافی نہیں ورنہ بخاری ومسلم کی حدیثیں بھی اس حساب سے شاذ و معتدل ہو جائیں گی۔اور تیز یہ بھی واضح ہوگیا ہوگا کہ یہ تاویل کہ یہ اثر اسرائیلیات سے ماخوذ ہے یا اختیار اراضی ما تخت سے مبلغان احکام مراد ہیں، ہرگز قابل التفات نہیں وجہ اس کی یہ ہے کہ باعث تاویلات مذکورہ فقط یہی مخالفت خاتمیت تھی۔جب مخالفت ہی نہیں تو ایسی تاویلیں کیوں کیجئے جن کو بدلول معنی مطابقی سے کچھ علاقہ ہی نہیں۔ا باقی رہی یہ بات کہ بڑوں کی تاویل دلیل کسے تو بڑوں کی رائے سے اختلاف جائز ہے کو نہ مانتے توان کی تحقیر نعوذ باللہ