قندیل ہدایت — Page 433
433 of 1460 ۵۸ کا اسم فاعل ہونا اس پر شاہد ہے۔اور پی معمول ہوتے ہیں۔چنانچہ اولاد کو مولود کہنا اس کی دلیل ہے۔سو جب ذات با برکات محمدی صلی اللہ علیہ وسلم موصوف بالذات بالنبوۃ ہوئی اور انبیار باقی موصوف بالعرض ا تو یہ بات اب ثابت ہو گئی کہ آپ والد معنوی ہیں اور انبیا۔باقی آپکے حق میں اولاد معنوی اور امیتیوں کی نسبت لفظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں غور کیجئے سے امتیوں کی بہ نسبت آپ والد کیسے ہیں؟ اس کو اس طرح بیان فرمایا گیا۔محمد رسول الله یہ جھرنا ایک مقدمہ اور بات ہوئی۔منطقی اس کو صغری کہتے ہیں، اور النبى اولى بالمؤمن من الایت دوسرا مقدمہ اور دوسری بات منطقی اس کو کبری کہتے ہیں۔ان دونوں باتوں کو جوڑنے سے مطلب یہ نکلتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم موقتوں کے قریب تر ہیں، ان کی جان سے بھی، جب اولیٰ کا معنی اقریب ہو۔اور اگر اول کا معنی تحت یا اولی با تصرف کردو تو پھر بھی قریب ثابت ہوتا ہے کیونکہ محبوب رہی ہوتا ہے جو قریب ہو۔اولی بالتصرف بھی وہاں ہو گا جو قریب ہو مگر اس کا عکس نہیں ہوسکتا کہ انحث اور اولی تو ہو مگر قریب نہ ہو۔کیونکہ قرب کے سوا اولی با نصرت اور احب نہیں ہوسکتا۔حضور صلی اللہ علیہ و سلم مومنوں کی جانوں سے بھی اُن کے زیادہ قریب ہیں۔اس پر حضرت نانوتوی دلیل پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ایمان والی وصف اصل میں آپ کی ہے اور مومنوں کو یہ وصعت آپ کے ذریعہ سے ملتی ہے آپ وضعت ایمان کے ساتھ موصوف بالذات ہیں اور دو کہ لوگ آپ کے واسطہ سے موصوت بالعرض ہیں۔اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جن لوگوں کو ربط، قرب اور تعلق ہوگا۔وہی اس وسعت کے ساتھ موصوف ہوں گے اور جن لوگوں کو آپ کے ساتھ تعلق اور قرب وربط حاصل نہیں اور اس سعادت سے محروم ہیں۔گو با ایمان کے لیے آپ کی ذات بابرکات مدار اور علت بھری اور مومنوں کا ایمان دار معلول قانون یہ ہے کہ ملت یا اصل کو جو تعلق اپنے معلول یا فروع کے ساتھ ہوتا ہے وہ تعلق فرع کو اپنے ساتھ بھی نہیں ہو سکتا کیونکہ اصل نہ ہو تو فرع کا وجود ہی نہیں ہوتا جیسا کہ سورج ز ہو تو میں منور ہی نہیں ہوگئی سورج ہوگا تو میں منور ہوگی اب تو ہونیکا وجود سورج پر موقوت ہے۔اگر سورج ہو تو یہ بھی شور می گی اورنہ مشہور ہونے کا وجود ہی نہیں، تو اس کو اپنے وجود کے ساتھ کون سا تعلق پیدا ہوا۔۱۲۔