قندیل ہدایت — Page 424
تخدم الناس 424 of 1460 الجَوَاتُ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ وَالصَّلوةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِهِ خاتم البين وَسَيّدِ المُرسَلِينَ وَالِهِ وَأَصْحَابه الجمعِينَ بعد حمد و صلوٰۃ کے قبل عرض جواب یہ گزارش ہو کہ اول معنی خاتم النبین معلوم کرنے چاہئیں تا کہ فہم جواب میں کچھ وقت نہ ہو سو عوام کے خیال میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کا خاتمہ ہونا ایں بنی ہو کہ آپکے زمانہ نہایا سابق کے زمانے کے بعد اور آپ سب میں آخرنی ہیں۔مگر اہل فہم پر روشن ہوگا کہ تقدیم یا تاخر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں پھر مقام مسرح GOLAND GANG رسول الله و ANGANA الينا فرمانا اس صورت میں کیونکہ صحیح ہو سکتا ہے۔1 ہاں اگر اس وصف کو اوصاف سرچ میں سے نہ کہیئے اور اس مقام کو مقام مرح قرانہ دیجئے تو البتہ خاتمیت باعتبار تا خرمات صحیح ہو سکتی ہو مگر میں جانتا ہوں کہ اہل اسلام میں سر کسی کو یہ بات گوارا نہ ہوگی کہ ہمیں ایک نے خدا کی جانب نعوذ باللہ زیادہ گوئی کا وہم ہے آخر اس صف میں اور قدو قامت وشکل رنگ حسب نسب سکونت وغیرہ اورضا میں جبکو نبوت یا اور فضائل میں کچھ دخل نہیں کیا فرق ہے جو اسکو ذکر کیا اور کو ذکرنہ کیا۔دو کر رسوب الشلا صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب نقصان قدر کا استمال کیونکہ اہل کہاں کے کمالات ذکر کیا کرتے ہیں امام ایسے ویسے لوگو نے اس قسم کے احوال بیان کیا کرتے ہیں اعتبار نہ ہو تو تاریخوں کو دیکھ لیجئے۔باقی یہ احتمال کہ یہ دین آخری دین تھا اسے نہ باب اتباع پیعیان نبوت کیا ہو جو کل کو چھوا دعوے کر کے خلائق کو گمراہ کرینگے۔البتہ ذ ممفاته قابل لحاظ ہر پر حملہ مَا كَانَ مُحَمَّد اَبا احد من رجالکم اور جمله ولكن رَسُولَ الله TANTANA TONKNOWNLOADNANAKANGUAGENTON یا نا تھا : انے یعنی آیہ کریمہ میں جو آں حضرت صلے انتہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین فرمایا گیا ہو اور اس کے معنی سمجھنے چاہئیں لے یعنی عوام کا خیال تو یہ ہے کہ رسولے شر صلی اللہ علیہ وسلم فقط میں سے خاتم النبیین ہیں کہ آپ سے آخری ہیں یعنی یہ عوام کا خیال پر جمیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تبلت فضلت کیا حقہ کا اظہار نہیں ہوتا ہو اسے عمار کے سر خیال کے مطابق یعنی محض تقدم و تاخر زمانی ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے بالذات کی نہ من فضیلت ثابت نہیں ہوتی ہو حالا کر منطوق قرآن بیان فیان کامل کیلو ہو لہذا نام انہیں کے یہ سنتے ہیں یہ ہیں کہ جس کپور پور کار اس فضیلت محمدی پہلے شعیہ وسلم ثابت ہوا