قندیل ہدایت — Page 165
165 of 1460 شعار ستور 6/124) حضرت عیسی لكَ ذِكْرَكَ (۹۴/۴) کے الفاظ آئے ہیں۔ان آیات میں رفع کے ساتھ درجت با ذکر یا کے الفاظ آتے ہیں۔لیکن تنہا ترنم کے معنی بھی بلندی درجات و عروج مراتب کے ہیں۔سورہ اعراف میں ہے وَ لَوْ شِئْنَا لَرَفَعُهُ بِهَا (۸۶) اور اگر ہم چاہتے تو ان قوانین کے ذریعے ہم اس کے مقام کو بلند کر دیتے " یہی وہ ارتفاع درجت ومراتب اور عروج مقامات و مناصب ہے جن کا ذکر حضرت اور لین کے قصہ میں ان الفاظ میں آیا ہے۔وَ رَفَعْنَهُ مَكَانًا عَلِيًّا (۱۹/۵۷) اور ہم نے اسے ایک بلند مقام پر اٹھایا " حضرت ادریس کو بڑے اونچے مقام تک اٹھانے کا مفہور نہیں کہ انہیں به جسد عنصری اٹھا کر کسی اونچی جگہ پر بٹھا دیا گیا تھا۔بلکہ جیسا کہ عام محاورہ ہے) اس سے ان کے مقام و مدارج کی بلندی مفہوم ہے، اور جب اس بلندی مقام کا ذکر اللہ کے عباد صالحین کے متعلق ہو گا تو اس سے مطلب" قرب الہی “ ہوگا۔اور یہ بھی ظاہر ہے کہ " قرب الھی سے مفہوم یہ نہیں کہ انسان جسمانی طور پر " اللہ کے قریب " جا بیٹھتا ہے۔بلکہ اس سے بھی مقصود بلندی مدارج و علو شرف انسانیت ہوتا ہے۔یہی مطلب حضرت عیسی کے تذکرہ میں " رَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ" اللہ نے اسے اپنی طرف بلند کیا ، اور " رَافِعُكَ اِلی دمیں تجھے اپنی طرف بلند کروں گا) سے ہے یعنی بلندی مدارج و مراتب مختلف انبیائے کرام کے مختلف مقامات مدارج و مناصب کا ذکر خود قرآن کریم میں موجود ہے۔تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ (۲/۲۵۳) ان رسولوں میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے " یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضر معنی کے متعلق رَفَعَهُ الله إِلَيْهِ اور رَافِعُكَ اِلَی فرمایا گیا ہے، یعنی اللہ نے اپنی طرف بلند کیا، اور اس سے اس امر پر دلیل لائی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو زندہ آسمان پر اٹھالیا۔لیکن اگر ( اِلَيْهِ اور اِلی سے یہ مفہوم لیا جائے تو اس کے یعنی گے مقام میں ہوں گے کہ اللہ تعالی آسمان پر کسی خاص مقام میں متمکن ہے۔اس مفہوم سے خود ذات باری تعالیٰ کے متعلق جو تصور قائم ہوتا ہے وہ محتاج تشریح نہیں۔یہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالی جہات و اطراف کی نسبتوں سے بلند اور مکان و زمان کی اضافتوں سے منترہ ہے۔وہ ہر مقام پر ہے اور اس کے لئے کسی خاص مقام اور گوسٹ کی تعیین یکسر غلط اور اس کی ذات کے متعلق قرآنی تعلیم کے قطعا فلات ہے جسے ایک ثانیہ کے لئے بھی دل میں جگہ نہیں دی جاسکتی۔اس لئے یہاں حضرت میسی کے تعلق کا