قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 158 of 1460

قندیل ہدایت — Page 158

158 of 1460 شعله استور حضرت عینی واقعات زندگی کے متعلق قرآن کریم نے ذکر کیا ہے۔لیکن اکثر وہ ہیں (حضرت ہود ، صالح ، لوط علیہم السلام) جن کی بعد از ہجرت زندگی کے متعلق مشرآن نے کچھ نہیں کہا۔اس لئے کہ جیسا کہ کھا جا چکا ہے، قرآن کریم تاریخ کی کتاب نہیں کہ وہ کسی رسول (یا قوم کی پید انس سے وفات دیا ابتدا سے انتہا) تک کے تمام واقعات بیان کرے۔وہ ان واقعات میں سے صرف اتنے حصہ پر اکتفا کرتا ہے جسے موقصد پیش نظر کے لئے ضروری سمجھتا ہے۔حضرت عیسی کی بعد از ہجرت زندگی کے متعلق بھی قرآن نے کچھ نہیں بتایا۔تصریحات بالا سے یہ حقیقت سامنے آگئی کہ قرآن کریم نے کس طرح یہودیوں اور یا ہوں سامنے کس طرح اور وفات کے اس خیال اور باطل عقیدہ کی تردید کردی ہے کہ حضرت مسیح کو صلیب دیا گیا تھا۔باقی رہا عیسائیوں کا یہ عقیدہ کہ آپ زندہ آسمان پر اٹھالئے گئے تھے تو قرآن سے اس کی بھی تائید نہیں ہوتی بلکہ اس میں ایسے شواہد موجود ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ آپ نے دوسرے رسولوں کی طرح اپنی مدت عمر پوری کرنے کے بعد وفات پائی۔سورہ آل عمران کی جو آیت او پر درج کی جاچکی ہے اس میں وفات کا ذکر صاف طور پر موجود ہے۔اِذْ قَالَ اللهُ يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ إِلَى وَمُطَر مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا (۳/۵۲) جب ایسا ہوا تھا کہ اللہ نے فرمایا " اے عیسی ! میں تیرا وقت پورا کروں گا دونات دے دوں گا، اور تجھے (یعنی تیرے درجات کو اپنی طرف بلند کروں گا۔تیرے مخالفین (کی تہمتوں) سے پاک کر دوں گا۔سورہ مائدہ میں ہے کہ اللہ تعالے حضرت مینی سے پوچھیں گے کہ کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ وہ تیری اور تیری والدہ کی پرستش کیا کریں۔وہ اس کے جواب میں کہیں گے کہ معاذ اللہ ! میں بھلا ایسا کیسے کہ سکتا تھا۔باقی رہے یہ لوگ (میرے متبعین)، سو كُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ يهِمُ فَلَمَّا تَوَثَيْتَنِي كُنتَ أنتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ جب تک میں ان میں موجود رہا، میں ان کی نگرانی کرتا رہا کہ اس قسم کے مشرکانہ عقائدان میں پیدا نہ ہوا (0/116) م