قندیل ہدایت — Page 1397
1397 of 1460 سوره مانده ۵ : ۳۴ معارف القرآن جلد سوم ١١٩ ساقط نہ ہو گی ، مشال جس کا مال چوری کیا ہے وہ معاف بھی کر دے تو چوری کی شرعی سزا معان نہ ہوگی، بخلاف قصاص کے کہ اس میں حق العبد کی حیثیت کو قرآن و سنت نے غالب قراردیا ہے ، یہی وجہ ہے کہ قاتل پر حرم قتل ثابت ہو جانے کے بعد اس کو دلی مقتول کے حوالہ کر دیا جاتا ہے وہ چاہے تو قصاص لے لے، اور اس کو قتل کرا دے اور چاہے معاف کر دے۔اسی طرح زخموں کے قصاص کا بھی یہی حال ہے، یہ بات آپ پہلے معلوم کر چکے ہیں کہ حدود یا قصاص کے ساقط ہو جانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ مجرم کو کھلی چھٹی مل جائے بلکہ حاکم وقت تعزیر کی سزا جتنی اور جیبی مناسب سمجھے دے سکتا ہے، اس لئے یہ شبہ نہ ہونا چاہئے کہ اگر خون کے مجرم کو اولیا پر مقتول کے معات کرنے پر چھوڑ دیا جائے تو قاتلوں کی جرات بڑھ جائے گی، اور قتل کی واردات عام ہو جائیں گی، کیونکہ اس شخص کی جان لینا تو ولی مقتول کا حق تھا وہ اس نے معات کر دیا ، لیکن دوسرے لوگوں کی جانوں کی حفاظت حکومت کا حق ہے، وہ اس حق کے تحفظ کے لئے اس کو عمر قید کی یا دوسری قسم کی سزائیں دے کر اس خطرہ کا انسداد کر سکتی ہے۔یہاں تک شرعی سزاؤں حدود، قصاص اور تعزیرات کی اصطلاحات شرعیہ اور ان کے متعلق ضروری معلومات کا بیان ہوا ، اب ان کے متعلق آیات کی تفسیر اور حد کی تفصیل دیکھئے ، پہلی آیت میں ان لوگوں کی سزا کا بیان ہے جو الٹر اور رسول کے ساتھ مقابلہ اور محاربہ کرتے ہیں ، اور زمین میں فساد مچاتے ہیں۔یہاں پہلی بات قابل غور یہ ہے کہ اللہ و رسول کے ساتھ محاربہ اور زمین میں فساد کا کیا مطلب ہے ، اور کون لوگ اس کے مصداق ہیں، لفظ محاربہ حرب سے ماخوذ ہے، اور اس کے اصلی معنی سلب کرنے اور چھین لینے کے ہیں، اور محاورات میں یہ لفظ اسلم کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے، جس کے معنی امن اور سلامتی کے ہیں، تو معلوم ہوا کہ حرب کا مفہوم بدامنی پھیلانا ہے ، اور ظاہر ہے کہ استاد کا چوری یا قتل وغارت گرمی سے امنِ عامہ سلب نہیں ہوتا، بلکہ یہ صورت بھی ہوتی ہے جبکہ کوئی طاقتور جماعت رہزنی اور قتل و غارت گری پر کھڑی ہو جائے ، اسی لئے حضرات فقہا نے اس سزا کا ستحق صرف اس جماعت یا فرد کو قرار دیا ہے جو مسلح ہو کر عوام پر ڈاکے ڈالے ، اور حکومت کے قانون کو قوت کے ساتھ توڑنا چاہے جس کو دوسرے لفظوں میں ڈاکو یا باغی کہا جا سکتا ہے ، عام انفرادی جرائم کر نیوالے چور گرہ کٹ وغیرہ اس میں داخل نہیں ہیں (تفسیر مظہری) دوسری بات یہاں یہ قابل غور ہے کہ اس آیت میں محاربہ کو اللہ اور رسول کی طرف