قندیل ہدایت — Page 1398
1398 of 1460 معارف القرآن جلد سوم ۱۲۰ سوره مانده ۵ : ۳۴۳ منسوب کیا ہی، حالانکہ ڈاکو یا بغاوت کرنے والے جو مقابلہ یا محاربہ کرتے ہیں وہ انسانوں کے ساتھ ہوتا ہے ، وجہ یہ ہو کہ کوئی طاقت در جماعت جب طاقت کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قانون کو توڑنا چاہے تو اگرچہ ظاہر میں اس کا مقابلہ عوام اور انسانوں کے ساتھ ہوتا ہے لیکن درحقیقت اس کی جنگ حکومت کے ساتھ ہے، اور اسلامی حکومت میں جب قانون اللہ اور رسول کا نافذ ہو تو یہ محاربہ بھی اللہ و رسول ہی کے مقابلہ میں کہا جائے گا۔خلاصہ یہ ہے کہ پہلی آیت میں جس سزا کا ذکر ہے یہ اُن ڈاکٹروں اور باغیوں پر عائد ہوتی ہر جو اجتماعی قوت کے ساتھ حملہ کر کے امن عامہ کو برباد کریں ، اور قانون حکومت کو علانیہ توڑ نیکی کوشش کریں ، اور ظاہر ہے کہ اس کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں، مال لوٹنے آبرو پر حملہ کرنے سے لیکر قتل و خونریزی تک سب اس کے مفہوم میں شامل ہیں، اسی سے مقابلہ اور محاربہ میں فرق معلوم ہو گیا کہ لفظ مقاتلہ خون ریز لڑائی کے لئے بولا جاتا ہے گو کوئی قتل ہو یا نہ ہو ، اور گو ضمناً مال بھی لوٹا جائے ، اور لفظ محاربہ طاقت کے ساتھ بدامنی پھیلانے اور سلامتی کو سلب کرنے کے معنی میں ہے۔اسی لئے یہ لفظ اجتماعی طاقت کے ساتھ عوام کی جان و مال و آبرو میں سے کسی چیز پر دست درازی کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے، جس کو رہزنی ، ڈاکہ، اور بغاوت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔اس جرم کی سزا قرآن کریم نے خود متعین فرما دی اور بطور حق اللہ یعنی سرکاری جرم کے نافذ کیا جس کو اصطلاح شرع میں حد کہا جاتا ہے ، اب سنتے کہ ڈاکہ اور رہزنی کی شرعی سزا کیا ؟ آیت مذکورہ میں رہزنی کی چار سزائیں مذکور ہیں : ان يقتلوا أو يُصَلَبُوا أَو تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَاَرْجُلُهُم مِّنْ خِلَانِ أَو يُنْقَوا مِنَ الارض یعنی اُن کو قتل کیا جائے یا سولی چڑھایا جائے یا اُن کے ہاتھ اور پاؤں مختلف جانبوں سے کاٹ دیئے جائیں یا ان کو زمین سے نکال دیا جائے یا ان میں سے پہلی تین سزاؤں میں مبالغہ کا لفظ باب تفعیل سے استعمال فرمایا جو تکرار فعل اور شدت پر دلالت کرتا ہے ، اس میں صیغہ جمع استعمال فرما کر اس طرف بھی اشارہ فرما دیا کہ ان کا قتل یا سولی چڑھانا یا ہاتھ پاؤں کاٹنا عام سزاؤں کی طرح نہیں کہ جس فرد پر جرم ثابت ہو صرف اسی فرد پر سزا جاری کی جاہیے بلکہ یہ شرم جماعت میں سے ایک فرد سے بھی صادر ہو گیا تو پوری جماعت کو قتل یا سولی دیا ہے پاؤں کاٹنے کی سزا دی جائے گی۔نیز اس طرف بھی اشارہ کر دیا گیا کہ یہ قتل و صلب وغیرہ قصاص کے طور پر نہیں کہ اولیاء مقتول کے معاف کر دینے سے معاف ہو جا ہے ، بلکہ یہ حد شریعی بحیثیت حق اللہ کے نافذ کی گئی ہے جن لوگوں کو نقصان پہونچا ہے وہ محات بھی کردیں تو شرکا سزا معاف نہ ہوگی ،