قندیل ہدایت — Page 1365
۱۰۷۸ 1365 of 1460 يوتا ۴۱۸ 1078 ارادہ کر چکے ہو جس نے تمہیں وہ حق بات بتائی جو اُس نے خدا سے کہوں کہ نہیں جانتا تو تمہاری طرح جھوٹا ٹھہروں گا۔لیکن میں اُسے سنی۔ابرہام نے ایسا کبھی نہیں کیا۔۴ تم وہی کچھ کرتے ہو جو جانتا ہوں اور اُس کے کلام پر عمل کرتا ہوں۔۵۶ تمہارے باپ ابرہام کو بڑی خوشی سے میرے دن کے دیکھنے کی امید تھی۔اُس نے تمہارا باپ کرتا ہے۔اُنہوں نے کہا: ہم ناجائز اولاد نہیں۔ہمارا باپ ایک ہی وہ دن دیکھ لیا اور خوش ہو گیا۔ہے یعنی خدا۔۴۳ ابلیس اور اُس کی اولاد ۵۷ یہودیوں نے اُس سے کہا : تیری عمر تو ابھی پچاس سال کی بھی نہیں ہوئی۔کیا تو نے ابرہام کو دیکھا ہے؟ ٩ ۵۹ ۴۲ یسوع نے اُن سے کہا: اگر خدا تمہارا باپ ہوتا تو تم مجھ ۵۸ یسوع نے جواب دیا: میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں کہ سے محبت کرتے ، اس لیے کہ میر ا ظہور خدا میں سے ہوا ہے اور اب ابرہام کے پیدا ہونے سے پہلے میں ہوں۔9 اس پر انہوں نے میں یہاں موجود ہوں۔میں اپنے آپ نہیں آیا بلکہ اُس نے مجھے پتھر اٹھائے کہ اُسے سنگسار کریں لیکن یسوع اُن کی نظروں سے بھیجا ہے۔تم میری باتیں کیوں نہیں سمجھتے ؟ اس لیے کہ میرے بیچ کر ہیکل سے نکل گیا۔کلام کو سنتے نہیں۔۴۴ تم اپنے باپ یعنی ابلیس کے ہو اور اپنے ایک پیدا میشی اندھے کا بینائی پانا باپ کی مرضی پر چلنا چاہتے ہو۔وہ شروع ہی سے خُون کرتا آیا ہے جب وہ جارہا تھا تو اُس نے ایک آدمی کو دیکھا جو پیدائیشی اور بھی سچائی پر قائم نہیں رہا کیونکہ اُس میں نام کو بھی سچائی نہیں۔اندھا تھا۔اُس کے شاگردوں نے اُس سے پوچھا: جب وہ جھوٹ بولتا ہے تو اپنی ہی سی کہتا ہے کیونکہ وہ جھوٹا ہے اور ربی ! کس نے گناہ کیا تھا، اس نے یا اس کے والدین نے جو یہ اندھا جھوٹ کا باپ ہے۔چونکہ میں سچ بولتا ہوں، اِس لیے تم میرا پیدا ہوا۔یقین نہیں کرتے۔۴۶ئم میں کوئی ہے جو مجھ میں گناہ ثابت کر یسوع نے کہا: نہ تو اس آدمی نے گناہ کیا تھا نہ اس کے سکے؟ اگر میں سچ بولتا ہوں تو تم میرا یقین کیوں نہیں کرتے؟ والدین نے لیکن یہ اس لیے اندھا پیدا ہوا کہ خدا کا کام اس کی ے جو خدا کا ہوتا ہے وہ خدا کی باتیں سنتا ہے۔چونکہ تم خدا کے زندگی میں ظاہر ہو۔" جس نے مجھے بھیجا ہے اُس کا کام ہمیں دن سنتا نہیں، اس لیے سنتے نہیں۔ہی دن میں کرنا لازم ہے۔وہ رات آرہی ہے جس میں کوئی شخص خداوند یسوع اور ابرہام ۴۵ Λ مانگا کرتا تھا؟ کام نہ کر سکے گا۔جب تک میں دنیا میں ہوں دنیا کا نُور ہوں۔یہودیوں نے اُسے جواب دیا: اگر ہم کہتے ہیں کہ تُو یہ کہہ کر اُس نے زمین پر تھوک کر مٹی سانی اور اُس آدمی کی سامری ہے اور تجھ میں بدروح ہے تو کیا یہ ٹھیک نہیں ؟ آنکھوں پر لگا دیے اور اُس سے کہا: جا، سلو ام کے حوض میں دھولے ۴۹ یسوع نے کہا: مجھ میں بدروح نہیں مگر میں اپنے باپ کی (سلوام کا مطلب ہے بھیجا ہوا)۔لہذا وہ آدمی چلا گیا۔اُس نے عزت کرتاہوں اور تم میری بے عزتی کرتے ہو۔۵۰ لیکن میں اپنی اپنی آنکھیں دھوئیں اور بینا ہو کر واپس آیا۔عزت نہیں چاہتا۔ہاں ایک ہے جو چاہتا ہے اور وہی فیصلہ کرتا اُس کے پڑوسی اور دوسرے لوگ جنہوں نے پہلے اُسے ہے۔اہ میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں کہ جوکوئی میرے کلام پر عمل کرتا بھیک مانگتے دیکھا تھا، کہنے لگے : کیا یہ وہی آدمی نہیں جو بیٹھا بھیک ہے وہ موت کا منہ بھی نہ دیکھے گا۔۵۲ یہ سُن کر یہودی کہنے لگے: اب ہمیں معلوم ہو گیا کہ تجھ بعض نے کہا کہ ہاں وہی ہے۔میں بدروح ہے۔ابرہام مر گیا اور دوسرے نبی بھی۔مگر تو کہتا ہے ۹ بعض نے کہا: نہیں ،مگر اُس کا ہم شکل ضرور ہے۔کہ جو کوئی میرے کلام پر عمل کرے گا وہ موت کا منہ کبھی نہ دیکھے گا۔لیکن اُس آدمی نے کہا کہ میں وہی اندھا ہوں۔کیا تو ہمارے باپ ابر ہام سے بھی بڑا ہے۔وہ مر گیا اور نبی ا انہوں نے اُس سے پوچھا: پھر تیری آنکھیں کیسے کھل بھی مر گئے۔تو اپنے آپ کو کیا سمجھتا ہے؟ ۵۴ یسوع نے جواب دیا: اگر میں اپنی تعریف آپ کروں تو اس نے جواب دیا: لوگ جسے یسوع کہتے ہیں، اُس نے وہ تعریف کس کام کی؟ میرا باپ جسے تم اپنا خدا کہتے ہو ، وہی میری مٹی سانی اور میری آنکھوں پر لگائی اور کہا کہ جا اور سلو ام کے حوض تعریف کرتا ہے۔۵۵ تم اُسے نہیں جانتے مگر میں جانتا ہوں۔اگر میں آنکھیں دھولے۔لہذا میں گیا اور دھوکر بینا ہو گیا۔۵۳ گئیں؟