قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 1343 of 1460

قندیل ہدایت — Page 1343

۱۲۲۱ 1343 of 1460 ا۔پطرس ۱:۳ 1221 قوموں میں اپنا چال چلن ایسا نیک رکھو کہ اُن کے اس الزام کے زندہ پتھر اور پاک قوم جب تم اُس زندہ پتھر کے پاس آتے ہو جسے آدمیوں نے باوجود کہ تم بد کار ہو وہ تمہارے نیک کاموں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رڈ کر دیا تھا لیکن خدا نے قیمتی سمجھ کر چن لیا تھا تو تم بھی زندہ سکیں اور ان کی وجہ سے خدا کے ظہور کے دن اُس کی تمجید کرسکیں۔پتھروں کی طرح ایک رُوحانی گھر کی تعمیر کے لیے چنے جاتے ہو ۶ مسیحی فرائض ۱۴ تا کہ تم وہاں مقدس کا ہنوں کا فرقہ بن کر ایسی روحانی قربانیاں پیش ۱۳ خداوند کی خاطر ، انسان کے انتظام کے تابع رہو۔بادشاہ کرو جو یسوع مسیح کے وسیلہ سے خدا کے حضور میں مقبول ہوتی ہیں۔کے اس لیے کہ وہ سب سے اعلیٰ اختیار والا ہے ؟ حاکموں کے اس لیے کہ خدا نے انہیں بدکاروں کو سزا دینے اور نیکو کاروں کو شاباش کہنے کے لیے مقرر کیا ہے۔۱۵ کیونکہ خدا کی مرضی یہ ہے کہ تم نیکی کرو اور نادان لوگوں کے منہ بند کرو تا کہ وہ جہالت کی باتیں نہ کہہ دیکھو! میں جیون میں کیونکہ پاک کلام میں آیا ہے: کونے کا چناہوا اور قیمتی پتھر رکھ رہا ہوں، جو اُس پر ایمان لائے گا کبھی شرمندہ نہ ہوگا۔سکیں۔۱۶ تم آزادلوگوں کی طرح رہو لیکن اپنی آزادی کو بدکاری کا پردہ مت بناؤ بلکہ خدا کے بندوں کی طرح زندگی بسر کرو۔ا سب کی عزت کرو، اپنی برادری سے محبت رکھو ، خدا سے ڈرواور ۱۷ بادشاہ کی تعظیم کرو۔ے تم ایمان لانے والوں کے لیے تو وہ پتھر قیمتی ہے لیکن ایمان ا نوکرو! اپنے مالکوں کے تابع رہو اور اُن کا خوف مانو نہ لانے والوں کے لیے، معماروں کی طرف سے رڈ کیا ہوا پتھر ہی اور کونے کے سرے کا پتھر ہو گیا۔ٹھیس لگنے کا پتھر اور ٹھوکر کھانے کی چٹان بن گیا۔چاہے وہ نیک اور حلیم ہوں چاہے بدمزاج۔۱۹ اگر کسی سے انصاف نہیں کیا جا رہا ہے لیکن وہ خدا کا خیال کرتے ہوئے دُکھ اُٹھاتا اور تکلیفوں کو برداشت کرتا ہے تو یہ بات قابلِ تعریف ہے۔۲۰ لیکن اگر تم نے قصور کر کے تھپیڑ کھائے اور صبر کیا تو کیا یہ کوئی فخر کی بات ہے؟ ہاں، اگر نیکی کرنے کے باوجود دُ کھ پاتے اور صبر سے کام لیتے ہو تو یہ بات خدا کے نزدیک پسندیدہ ہے۔۲۱ خم بھی اسی قسم کے چال چلن کے لیے بلائے گئے ہو کیونکہ مسیح نے تمہارے لیے دُکھ اُٹھا کر ایک مثال قائم کر دی تا کہ تم اُس کے نقش قدم پر چل سکو۔۲۲ اُس نے نہ تو کبھی گناہ کیا نہ اس کے منہ سے کوئی مکر کی بات نکلی۔وہ کلام پر ایمان نہ لانے کی وجہ سے ٹھوکر کھاتے ہیں اور اسی کے ۲۳ نہ اُس نے گالیاں کھا کر کبھی گالی دی، نہ ڈکھ پا کر کبھی کسی لیے وہ مقرر بھی ہوئے تھے۔کو دھمکایا، بلکہ اپنے آپ کو خدا کے سپرد کر دیا جو انصاف سے قم ۹ لیکن تم ایک چھنی ہو ئی نسل، شاہی کا ہنوں کی جماعت عدالت کرتا ہے۔۴ وہ خود اپنے ہی بدن پر ہمارے گناہوں کا مقدس قوم اور ایسی امت ہو جو خدا کی خاص ملکیت ہے تا کہ بوجھ لیے ہوئے صلیب پر چڑھ گیا تا کہ ہم گناہوں کے اعتبار سے تمہارے ذریعہ اُس کی خُو بیاں ظاہر ہوں جس نے تمہیں اندھیرے مُردہ ہو جائیں مگر راستبازی کے اعتبار سے زندہ ہو جائیں۔اُسی کے سے اپنی عجیب روشنی میں بلایا ہے۔پہلے تم کوئی امت ہی نہ تھے، مارکھانے سے تم نے شفا پائی۔۲۵ پہلے تم بھیڑوں کی طرح بھٹکتے اب خدا کی امت بن گئے ہو۔تم جو پہلے خدا کی رحمت سے محروم پھرتے تھے لیکن اب اپنی روحوں کے چرواہے اور نگہبان کے پاس تھے اب اُس کی رحمت کو پاچکے ہو۔کوٹ آئے ہو۔عزیز وائم جو مہاجروں اور پردیسیوں کی طرح زندگی گزار میاں بیوی کے لیے نصیحت رہے ہو، میں تمہاری منت کرتا ہوں کہ تم اُن بُری جسمانی خواہشوں بیویو! تم بھی اپنے اپنے شوہروں کی تابع رہوتا کہ اگر اُن سے دُور رہو جو تمہاری روح سے لڑائی کرتی رہتی ہیں۔۱۲ اور غیر میں بعض جو پاک کلام کو نہ بھی مانتے ہوں تمہارے کہے