قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 1332 of 1460

قندیل ہدایت — Page 1332

1332 of 1460 1064 ۲۶ خداوند یسوع کا مصلوب ہونا لوقا ۲۶:۲۳ ۱۰۶۴ ۴۲ تب اُس نے کہا: اے یسوع ! جب تو بادشاہ بن کر ۶ جب وہ یسوع کو لیے جارہے تھے تو انہوں نے شمعون آئے تو مجھے بھی یاد کرنا۔گرینی کو جو اپنے گاؤں سے آ رہا تھا پکڑ لیا اور صلیب اُس پر رکھ ۴۷ یسوع نے اُس سے کہا: میں تجھے یقین دلاتا ہوں کہ تُو دی تا کہ وہ اُسے اُٹھا کر یسوع کے پیچھے پیچھے چلے۔۲۷ لوگوں کا آج ہی میرے ساتھ فردوس میں ہو گا۔ایک بڑا ہجوم اُس کے پیچھے ہولیا اور ہجوم میں کئی عورتیں بھی تھیں جو خداوند یسوع کی موت اُس کے لیے نوحہ اور ماتم کر رہی تھیں۔۲۸ یسوع نے مُڑ کر انہیں ۴۴ تقریبا دو پہر کا وقت تھا کہ چاروں طرف اندھیرا چھا کہا: اے پرو علیم کی بیٹیو! میرے لیے گریہ مت کرو بلکہ اپنے اور گیا اور تین بجے تک یہی حالت رہی۔۴۵ سورج تاریک ہو گیا اپنے بچوں کے لیے گریہ کرو۔۲۹ کیونکہ وہ دن آنے والے ہیں اور ہیکل کا پردہ پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا اور یسوع نے اونچی جب تم یہ ہوگی کہ وہ بانجھ عورتیں مبارک ہیں جن کے رحم بچوں سے آواز سے پکار کر کہا: آکے باپ ! میں اپنی روح تیرے ہاتھوں میں خالی رہے اور جن کی چھاتیوں نے دودھ نہیں پلایا۔" " تب وہ سونپتا ہوں اور یہ کہہ کردم تو ڑ دیا۔پہاڑوں سے کہیں گے : ہم پر گر پڑو اور ٹیلوں سے کہ ہمیں چھپالو۔جب رومی کپتان نے یہ ماجراد دیکھا تو خدا کی تمجید کرتے ۳۱ کیونکہ جب درخت ہرا ہے اور وہ یہ سب کچھ کر رہے ہوئے کہا: یہ آدمی واقعی راستباز تھا۔۴۸ اور سارے لوگ جو وہاں ہیں تو جب وہ سوکھ جائے گا تو کیا کچھ نہ کریں گے۔جمع تھے یہ منظر دیکھ کر سینہ کوبی کرتے ہوئے لوٹ گئے۔۴۹ لیکن د و مجرم اور بھی تھے جنہیں اُس کے ساتھ لے جایا جارہا یسوع کے سارے جان پہچان اور وہ عورتیں جو کلیل سے اُس کے دو وہ ۳۳ ھا تا کہ و بھی قتل کے جائیں۔جب وہ اس مقام پر پہنچے سے پیچھے پیچھے آئی تھی اور فاصلہ پر کھڑی یہ پہ دیکھی تھیں۔سب کلوری کہتے ہیں تو وہاں اُنہوں نے یسوع کو مصلوب کیا اور اُن دو خداوند یسوع کی تدفین مجرموں کو بھی ، ایک کو یسوع کی داہنی طرف اور دوسرے کو بائیں ۵۰ ایک آدمی تھا جس کا نام یوسف تھا۔وہ یہودیوں کی طرف۔۳۴ یسوع نے کہا: اے باپ ! انہیں معاف کر کیونکہ یہ عدالت عالیہ کا ایک رُکن تھا اور بڑا نیک اور راستباز تھا۔ا وہ نہیں جانتے کہ کیا کر رہے ہیں اور انہوں نے اُس کے کپڑوں پر عدالت عالیہ کے اراکین کے فیصلہ اور عمل کے حق میں نہ تھا۔وہ قرعہ ڈال کر انہیں بانٹ لیا۔یہودیوں کے شہر ارامتیا کا باشندہ تھا اور خدا کی بادشاہی کا منتظر ۳۵ لوگ کھڑے کھڑے یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے اور تھا۔۵۲ اس نے پیلاطس کے پاس جا کر یسوع کی لاش مانگی۔سردار بھی اُس پر آوازے کستے تھے اور کہتے تھے: اس نے اوروں ۵۳ اور لاش کو صلیب پر سے اُتار کر مہین چادر میں لپیٹا اور اُسے کو بچایا، اگر وہ مسیح ہے اور خدا کا برگزیدہ ہے تو اپنے آپ کو بچا ایک قبر میں جو چٹان میں کھدی ہوئی تھی رکھ دیا۔اس قبر میں پہلے کوئی نہیں رکھا گیا تھا۔۵۴ وہ تیاری کا دن تھا اور سبت شروع 2 ۶ سپاہی بھی آ آکر اُس کی بنسی اُڑاتے تھے اور پینے کے ہونے والا تھا۔لیے اُسے سر کہ پیش کرتے تھے۔۳۷ اور کہتے تھے : اگر تو یہودیوں ۵۵ وہ عورتیں جو گلیل سے یسوع کے ساتھ آئی تھیں، یوسف کے پیچھے پیچھے گئیں اور انہوں نے اس قبر کو دیکھا اور یہ بھی کہ یسوع ۳۸ اُس کے سر کے اوپر ایک نوشتہ بھی لگایا گیا تھا کہ یہ کی لاش کو اُس کے اندر کس طرح رکھا گیا ہے۔۵۶ تب وہ گھر لوٹ گئیں اور اُنہوں نے خوشبودار مسالے اور عطر تیار کیا اور کا بادشاہ ہے تو اپنے آپ کو بچالے۔یہودیوں کا بادشاہ ہے۔دو مجرم جو مصلوب کیے گئے تھے، اُن میں سے ایک نے شریعت کے حکم کے مطابق سبت کے دن آرام کیا۔خداوند یسوع کا زندہ ہو جانا یسوع کو طعنہ دے کر کہا: اگر تو مسیح ہے تو اپنے آپ کو اور ہمیں بچا۔۴۰ لیکن دوسرے نے اُسے جھڑ کا اور کہا: کیا تجھے خدا کا خوف نہیں حالانکہ تو خود بھی وہی سزا پا رہا ہے؟ ہ ہم تو اپنے ۲۴ ہفتہ کے پہلے دن صبح سویرے بعض عورتیں خوشبو دار مسالے جو انہوں نے تیار کیے تھے جرموں کی سزا پا ر ہے ہیں اور ہمارا قتل کیا جانا واجب ہے لیکن اس اپنے ساتھ لے کر قبر پر آئیں۔لیکن انہوں نے پتھر کو قبر کے منہ لے پر کوقبر نے کوئی غلط کام نہیں کیا ہے۔سے لڑھکا ہوا پایا۔جب وہ اندر گئیں تو انہیں یسوع کی لاش نہ