قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 1264 of 1460

قندیل ہدایت — Page 1264

1264 of 1460 www۔KitaboSunnat۔com نتاری مدیر به جلد دوم ۱۹۴ كتاب الربوا کے مقابلہ نص قرانی کے حدیث کا دعوا بین المسلح الح قابل اعتماد و استدلال کے ہرگزہ نہیں ہو سکتی نزدیک علمائے اہل فطانت دریافت کے وبالفرض اگر مدیت مذکور ساتھ سند صحیح کے بھی پائی جاتی ہو تا ہم زیادت ساتھ خبر داد کے نص قطعی قرآنی پر ہرگز جائز نہ ہوگی چنانچہ ما مران اصول پخفی نہیں ربا خوار کو چاہیئے کہ اس مقام من فتح القدیر کو نور ملاحظہ کرے کہ سود لینے سے باز آ دے۔ولهذا لا يفيد المعارضة اطلاق النصوص الا بعد ثبوت صحۃ حدیث ممکحول وقد يقال لو سلم حجيته فالزيادة بخبر الواحد لا تجوز فائبات قيد راشد على المطلق من تحولا تاكلوا الربا ونحوه هو الزيادة لا تجوز انتى ما في فتح القد مر يقل والحاجة اب آگے سنوا کہ امام صاحب بواسطہ حدیث مذکور کے ربوا عنا دار الحرب میں جائزہ رکھتے ہیں، نہ دارالاسلام میں اور مہند وستان شرقا و عطر با موافق شروط قرار داده امام صاحب کے دارالحرب نہیں ہے، چنانچہ فصولی عمادیہ والطاری وغیرہ سے پہلے واضح ہو چکار پس امام صاد کے نزدہ کی بھی سود لینا مند دستمان دینیگالہ میں جرائم ونا جائز ہو گا کیونکہ دارالاسلام ہے ، تو اس صورت میں نزدیک تمام اہل حدیث وفقہ خصوصا از و یک امام ابو یوسف و هارون اماموں کے معاملہ لینا دنیا سود کا مہندوستان دین گالہ ہی حرام قطعی ہوگا کیونکہ بقوله تعالی د حور الولوا نعد قطعی ہے، منکر اس کی حرمت کا بے شک کا فر ہو گا، چنانچہ ماران شریعیت پر مخفی سید محمد نذر حسین نہیں۔واللہ اعلم بالصواب فاعتبروا یا اولی الالباب - سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین در باب سود کے کہ نی زمان اکران اسلام بدیل اس کے کہ میر تک دارالحرب ہے، اور دارالحرب میں سود لینا درست ہے آپس میں ہندؤں اور مسلمانوں کے سود لیتے ہیں، اور دیتے ہیں، آیا اس حیلہ سے سود لینا مسلمانوں کو اس ملک ہیں درست ہے یا نہیں۔بینوا توجرد - الجواب:- در صورت مرقومہ جاننا چاہیے کہ سود کا لینا دنیا خواہ دار الاسلام میں کو خواہ دار الحرب میں حرام اور منوع ہے نہ دیک امام مالک اور امام شافعی اور نام احمد اور امام ابویوسف اور جمہور علمار رحیم اللہ تعالے کے کیونکہ قرآن اور حدیث اور اجماع صحابہت محکمہ دلائل وبراہین سے مزین متنوع و منفرد کتب پر مشتمل مفت آن لائن مکتبہ