قندیل ہدایت — Page 1243
1243 of 1460 عشرتکدے آباد تھے جس قوم کے ہر تو اس قوم کا ایک ایک گھراب زیر عزا ہے چاوش تھے للکارتے جن رہگزروں میں دن رات بلندان میں فقیروں کی صدا ہے وہ قوم کہ آفاق میں جو سر بفلک تھی وہید میں اسلاف کے اب دو قضا ہے وقوم کی ان تھی معلوم اور کم کی اس علم کا وا نام نہ محبت کا پتا ہے کھوج ان کے کمالات کا لگتا ہو اب اتنا گھر دشت میں ایک قافل ہے بلا رہا ہے مجری ہے کچھ ایسی کہ بنائے نہیں بنتی ہے اس پریہ ظاہر کی ہی حکم قضا ہے تھی اس تو تھا خوف بھی براہ را کے اب خوف سے بہت سے دلوں میں کہا ہے جوکچھ میں سب نوہی اتوں کے میں کر تو شکوہ ہر زمانے کا قسمت کا گلا ہے دیکھے میں بیدن اپنی ہی غفلت کی بدست بیچ ہے کہ بڑے کام کا انجام برا ہے کی زیب بدن بنے ہی پوشاک کتاں کی اور برف میں ڈوبی ہوئی کشور کی ہوا ہے در کار میں یاں معرکے میں جوشن وخفتان اور دورش پر یاروں کے وہی گندا ہے دریائے پر آشو ہے اک اہ میں حائل اور میٹھ کے گھوڑنا و پریاں قصر تنا ہے ملتی نہیں اک بوند بھی پانی کی جماعت واں قافلہ سب گھر سے تعبیرت چلا ہے یاں نکلے میں سودے کو درم لے کے پرانے اور سکہ رواں شہر میں دس سے نیا ہے فریاد ہے اے کشتی اُمت کے بگہاں بیٹا یہ تباہی کے قریب آن لگا ہے