قندیل ہدایت — Page 529
529 of 1460 ۵۲۱ فرمایا ہے۔پس اس کی طرف رجوع کر۔القطب لا یموت سے کیا مراد ہے؟ اگر تو کہے کہ صوفیاء کے اس قول سے کیا مراد ہے کہ قطب مرتا نہیں؟ تو جیسا کہ شیخ نے فتوحات کے۷۳ ویں باب میں فرمایا اس ت مراد یہ ہے کہ جہان کسی ایک زمانے میں قطب سے خالی نہیں ہوتا جیسے کہ وہ رسل علیہم السلام میں ہے اور اسی لئے اللہ تعالی نے دنیا میں اجسام کیسا تھ رسل علیہم السلام میں سے چار کو باقی رکھا۔تین ارباب شریعت ہیں اور یہ حضرت ادریس، الیاس، اور عیسی علیہم السلام میں اور ایک علم لدنی کے حامل اور وہ حضرت خضر علیہ السلام ہیں۔وضاحت مسئلہ اور اس کی وضاحت یہ ہے کہ ارکان بیت اللہ کی طرح دین حنفی کے چار ارکان ہیں۔اور وہ رسل، انبیاء اولیاء اور مومنین ہیں۔اور رسالت، بیت اور اس کے ارکان کا رکن جامع ہے۔پس کوئی زمانہ رسول سے خالی نہیں جو اس میں ہوتا ہے۔اور وہ قطب ہی ہے جو کہ جہان سے حق تعالٰی کی نگاہ کا محل ہے جیسے اس کے جلال کے شایاں ہے۔اور اس قطب سے ہی تمام امداد الہیہ تمام عالم علوی و سفلی پر تقسیم ہوتی ہے۔شیخ محی الدین فرماتے ہیں: اس کی شرط ہے کہ جسم طبیعی اور روح والا ہو۔اور اس دار دنیا میں اپنے جسد اور اپنی حقیقت کے ساتھ موجود ہو۔پس ضروری ہوا کہ وہ اس جہان میں اپنے جسم اور روح کے ساتھ حضرت آدم علیہ السلام کے دور سے لے کر قیامت تک موجود ہو۔اور چونکہ یہ امر مذکورہ صورت پر ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دین کو پختہ کر کے واصل بحق ہو گئے جو کہ منسوخ نہیں ہوگا اور وہ شریعت جو کہ بدلے گی نہیں تو تمام رسل علیہم السلام آپ کی شریعت میں داخل ہو گئے کہ اس کے ساتھ قائم رہیں۔پس زمین، اپنے جسم کے ساتھ زندہ رسول سے خالی نہیں ہوتی کیونکہ وہ عالم انسانی کا قطب ہے گرچہ تعداد میں ہزار رسول ہوں۔پس بیشک مقصود ان سے وہی ایک ہے۔پس اور لیس چوتھے آسمان میں عیسی دوسرے میں جبکہ الیاس و خضر زمین میں ہیں۔علیہم الصلوات والتسلیمات۔اور یہ معلوم ہے کہ ساتوں آسمان عالم دنیا سے ہیں کیونکہ یہ صور تا بقاء دنیا کے ساتھ باقی ہیں اور اس کی فنا کے ساتھ فنا ہو جائیں گے۔پس یہ جہان دنیا کا جزو ہیں۔بخلاف فلک اطلس کے کیونکہ وہ آخرت سے شمار کیا جاتا ہے۔پس بیشک قیامت کے دن میں زمین دوسری زمین کے ساتھ بدل دی جائے گی اور آسمان بھی۔یعنی یہ بھی ان کے غیر کے ساتھ بدل دیئے جائیں گے۔جیسے ہم سے اے نیک بختو یہ خا کی تخلیق دوسری سے بدل دی جائے گی جو کہ زیادہ نازک پاکیزہ اور لطیف ہوگی۔پس طبیعیہ جسمیہ تخلیق ہوگی کہ یہ لوگ بول و براز سے مبرا ہوں گے جیسا کہ اس کے بارے میں احادیث وارد ہیں۔اور اللہ تعالیٰ نے حضرت الیاس اور خضر علیہما السلام کو زمین میں باقی رکھا ہے اور اسی طرح حضرت عیسی علیہ السلام جب نازل ہوں گے۔اور یہ حضرات مرسلین سے ہیں۔پس وہ زمین میں دین حنیفی کے ساتھ قائم ہیں۔پس اس جہان میں رسول ہمیشہ رہے اور رہیں گے مگر شرع محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باطنیت کے ساتھ۔لیکن اکثر لوگوں کو علم نہیں۔پس قطب حضرت عیسی ، ادریس، الیاس اور خضر علیہم السلام میں سے ایک ہی ہے اور وہ بیت الدین کے ارکان میں سے ایک رکن ہے اور وہ رکن حجر اسود کی طرح ہے اور ان میں سے دو امام ہیں اور وہ چاروں اوتاد ہیں۔پس ایک کے ساتھ اللہ تعالیٰ ایمان کی حفاظت کرتا ہے۔دوسرے کے ساتھ اللہ تعالیٰ ولایت کی حفاظت کرتا ہے۔تیسرے کے ساتھ نبوت کی اور چوتھے کے ساتھ رسالت کی حفاظت فرماتا