قندیل ہدایت — Page 440
440 of 1460 تحذیر الناس 17 کیونکہ شذوذ بھنے مخالف ثقات صحت کے لئے مضر ہے جو حدیث ایں معنے شاذ ہے جیح نہیں ہو سکتی۔بانیمہ مخالفت و عدم مخالفت کا عقدہ بھی تقریر گذشتہ سے کھل گیا۔اگر انثر حضرت عبداللہ بن عباس مخالف تھا تو جگہ خاتم النبیین کے مخالف تھا یا ان حا دیث کے معارض تھا جو مبین اور مفسر منے تھا تم النبین ہیں سو بعد مطالعہ مر گذشتہ اہل فہم کو تو انشاء اللہ تعالی کچھ تردد نہ رہے گا کہ اکثر مذکور مورد و مثبت معنے خاتم النبیین ہے نہ مخالف بلکہ اثر مذکور کا غلط ہونا البتہ ثبوت خاتمیت میں بہت خارج ہے۔اور کیوں نہ ہو در صورت انکار معلوم خاتمیت کے سات حصوں میں سے ایک ہی حصہ باقی رہجاتا ہے اس صورت میں درمیان محبت نبوی سے ہمکہ یہ توقع ہے کہ بیا اس اثر کا انکار کرتے تھے اب اتنا ہی اقرار کریں۔بلکہ اس سے بھی بڑھ کر انکا یہ میں تو تکذیب رسول اللہ صلح کا کھٹکا بھی تھا اقرار میں تو کچھ اندیشہ ہی نہیں بلکہ سات زمینوں کی جگہ اگر لاکہ دولا کہہ اوپر نیچے اسی طرح اور زمینیں تسلیم کر لیں تو میں زمہ کش کہوں کہ ان کا یہ سے زیادہ اس اقرار میں کچھ وقعت نہ ہوگی نہ کسی آیتہ کا تعارف نہ نکسی حدیث سے معارضہ رہا اثر معلوم اس میں سات سے زیادہ کی نفی نہیں سو جب افکار امرہ مذکور میں باوجود تصحیح ائمہ حدیث یہ حرارت ہے تو اقرار اراضی زانده از سبعے میں تو کچھے ڈر ہی نہیں علاوہ بریں ہر تقریر خاتمیت زبانی انکار اثر از کور میں ندید نبوی مسلم میں کچھ افزائش نہیں ظاہر ہے کہ اگر ایک شہر آباد ہو اور اس کا ایک شخص مالکم ہو یا سب میں افضل تو بعد اس کے کہ اس شہر کی برابر دو سر او پیا ہی شہر آباد کیا جا و سے اور اس میں بھی ایسا ہی حاکم ہو یا سب میں افضل تو اس شہر کی آبادی اور اسی کے عالم کی حکومت یا اس کے فرد افضل کی افضلیت سے حاکم یا افضل شہر اول کی حکومت یا افضلیت میں کچھ کمی نہ آجائے گی اور اگر در صورت تسلیم اور بچے زمینوں کے وہاں کے آدم و نوح وغیرہم علیہم السلام یہاں کے آدم و نوح علیہم السلام وغیرہم سے نہ مانہ سابق میں ہوں تو با وجود ممانت کلی بھی آپ کی خاتمیت زمانے سے انکار نہ ہو سکے گا جو وہاں سے محمد صلعم کے مساوات میں کچھ محبت کیجیے ہاں گر خاتمیت بمعنے