قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 439 of 1460

قندیل ہدایت — Page 439

439 of 1460 تحذیر الناس ۱۳ افت منی بمنزلتها ردن من موسى الا انه لا نبی بعدی او کما قال جو بظا ہر بطرز مذکورہ اسی لفظ سنا تم النبین سے ماخوذ ہے اس باب میں کافی ہے کیونکہ یہ مضمون درجہ تواتر کو پہنچ گیا ہے پھر اس پر اجماع بھی منعقد ہو گیا گو الفاظ مذکور پسند تو اتر منقول نہ ہوں سویہ عدم تواتر الفاظ با وجود تواتر معنومی یہاں ایسا ہی ہوگا جیسا تو اترا عد او رکعات فرائض دو تر و غیره باد جو دیکه الفاظ احادیث منتشعر تعدا اور کھات متواتر نہیں جیسا اس کا منکر کا فر ہے ایسا ہی اس کا منکر بھی کافر ہو گا اب دیکھئے کہ اس صورت میں عطف بین الجمل تین اور استدراک اور استفاد مذکور بھی بغایت درجہ جہاں نظر آتا ہے اور خاتمیت بھی بوجہ احسن ثابت ہوتی ہے اور خاتمیت زمانی بھی ہاتھ سے نہیں جاتی اور نیز اس صورت میں جیسے قرآت خاتم بکسر افتاد چیاں ہے ایسے ہی قرآت خاتم بفتح التاء بھی نہایت درجہ کو بے تکلف موزوں ہو جاتی ہے کیونکہ جیسے خاتم بفتح اللہ کا اثر ادر نقش مختوم علیہ میں ہوتا ہے ایسے موصوف بالذات کا اثر موصوف بالعرض میں ہوتا ہے حاصل مطلب آیہ کریمیہ اس صورت میں یہ ہوگا کہ ابوت معروفہ تورسول اللہ صلعم کو کسی مرد کی نسبت حاصل نہیں پیر ابوة معنوی انتیوں کی نسبت بھی حاصل ہے اور انبیاء کی نسبت بھی حاصل ہے۔انبیاء کی نسبت تو فقط خاتم البنین شاہد ہے کیونکہ اوصاف معروض موصوف بالعرض موصوف بالذات کے فرع ہوتے ہیں۔موصوف بالذات اوصاف عرضیہ کی اصل ہوتا ہے اور اور وہ اس کی نسل اور ظاہر ہے کہ والد کو والد اور اولاد کو اولاد اسی لحاظ سے کہتے ہیں کہ یہ اس سے پیدا ہوتے ہیں وہ قائل ہوتا ہے چنانچہ والد کا اسم فاعل ہونا اس پر شاہدہ ہے اور یہ مفعول ہوتے ہیں چنانچہ اولاد کو مولود کہنا اس کی دلیل ہے سوحب ذات با برکات محمدی صلعم موصوف بالذات بالنبوۃ ہوئی انبیا باقی موصوف با العرض تو یہ بات اب ثابت ہو گئی کہ آپ معنوی میں اور انبیاء باقی آپ کے حق میں منزلہ اولاد معنوی اور المیوں کی نسبت لفظ رسول اللہ میں غور کیجئے تو یہ بات واضح ہے پر ایہ النبی اولی بالمومنین دلانے کی ضرورت ہے محمد رسول اللہ مسلم