قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 432 of 1460

قندیل ہدایت — Page 432

432 of 1460 ۵۷ ایسے دیکھئے کہ اس صورت میں عطت این انجلتیں اور استدراک اور استثناء مذکور بھی لغایت نظر آتا ہے اور خاتمیت بھی بوجہ احسن ثابت ہوتی ہے اور خاتمیت زمانی بھی ہاتھ درجہ جہاں نے سے نہیں جاتی۔اور نیز اس صورت میں جیسے قرآة خاتم بحران جہاں ہے، ایسے ہی قرآن خاتم بفتح النار بھی نہایت درجہ کو بے تکلف موزوں ہو جاتی ہے کیونکہ جیسے خاتم بفتح النار کا ار اور نقش محوم علیہ میں ہوتا ہے ایسے موصوف بالذات کا اثر موصوف بالعرض میں ہوتا ہے۔ما تصل مطلب آیہ کریمیہ کا اس صورت میں یہ ہوگا کہ آیت ختم نبوت کا معنوم ابوة معروفہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی مرد کی نسبت حاصل نہیں۔پیر ابوہ معنوی امتیوں کی نسبت بھی حاصل ہے اور اغیار کی نسبت بھی حاصل ہے۔انبیار کی نسبت تو لفظ خاتم النبیین شاہد ہے۔کیونکہ اوصات معروض و موصوف بالعرض موصوف بالذات کے فرع ہوتے ہیں۔موصوف بالذات اوصات عرضیہ کی اصل ہوتا ہے اور وہ اس کی نسل۔اور ظاہر ہے کہ والد کو والدور اولاد کو اولاد اسی لحاظت کہتے ہیں کہ یہ اس سے پیدا ہوتے ہیں وہ فاعل ہوتا ہے۔چنانچہ والد لے یہاں بحث مذکور کا خلاصہ اور نتیجہ بیان فرماتے ہیں۔اب آیت کے درجنوں مَا كَانَ مُحَمَّدًا آیا احد مِنْ رِجَالِكُوا وَلَكِنْ رَسُولَ الله DOWNTOWN KAKANGUAGEN میں ربط ظاہر ہو گیا کہ ابو د جهانی تو نہیں مگر ابوة روحانی ضرور ہے اور خاتمیت بوجہ احسن یعنی جو تینوں قسم کی خاتمیت کو شامل ہے، ثابت ہوگئی خاتمیت زمانی بھی ثابت ہوگئی۔اور خاتم بفتحہ تار کے ساتھ اور فاقہ کسر کا تار کے ساتھ ، ان دونوں میں یک جہتی بھی پیدا ہو گئی۔۱۲ کے اب آیت مذکور کا مفہوم یہ ہوگا۔ابوت نبی تو کسی مرد کے لیے نہیں ، پر ابو معنومی امتیوں کی بہ نسبت حاصل ہے اور دوکر اختیار کی بہ نسبت بھی کیونکہ آپ کی نبوت ذاتی ہے اور باقی آپ کے فیضان سے بنی ہیں جیسے باپ کے فیضان والے ذریعہ سے بیٹا ہوتا ہے۔اسی وجہ سے باپ کو والد اور بیٹے کو مولود کہا جاتا ہے ۱۲۰