قندیل ہدایت — Page 393
631 393 of 1460 www۔KitaboSunnat۔com رہتے تھے کیونکہ یہودی آپ کی مخالفت بہت شدت سے کرتے تھے اور آپ پر اور آپ کی والدہ محترمہ پر طرح طرح کی الزام تراشی کرتے تھے۔ایک رائے کے مطابق ”صحیح“ کا مطلب [ممسوح القدمين ] ہے ، یعنی آپ علیہم کے قدم مبارک ہموار اور برابر تھے۔قرآن مجید میں بہت سے مقامات پر آپ کا ذکر خیر موجود ہے۔ارشاد باری تعالی ہے: ثمَّ قَفَّيْنَا عَلَى أَثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا وَقَفَّيْنَا بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَآتَيْنَهُ الْإِنْجِيلَ ان کے بعد بھی ہم اپنے رسولوں کو پے در پے بھیجتے رہے اور ان کے بعد عیسی ابن مریم کو بھیجا اور انہیں انجیل عطا فرمائی۔“ (الحدید: 27/57) اس کے علاوہ ارشاد ہے: وَأتَيْنَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنَتِ وَايَّدُ لَهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ ”اور ہم نے عیسی ابن مریم کو روشن دلیلیں دیں اور روح القدس سے ان کی تائید کروائی۔“ (البقرة : 253/2) صحیحین میں رسول اللہ لا علم کا ارشاد مروی ہے: ”جو بچہ بھی پیدا ہوتا ہے ، شیطان اس کے پہلو میں شہوکا دیتا ہے تو وہ رونے لگتا ہے ، سوائے مریم علیہ اور ان کے بیٹے کے۔اس نے شہوکا دینا چاہا تو پردے میں شہوکا دے دیا۔حضرت عبادہ بن صامت بھی اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ کی لی ہم نے فرمایا: ”جو شخص یہ گواہی دے کہ اللہ وحدہ لاشریک کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد علی الیم اللہ کے بندے اور رسول ہیں اور عیسی علیکم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور اس کا کلمہ ہیں جو اللہ نے مریم کی طرف بھیجا اور اللہ کی طرف سے ( آنے والی ) ایک روح ہیں اور جنت حق ہے اور جہنم بھی حق ہے ، یعنی واقعی موجود ہے، اللہ تعالیٰ اس شخص کو جنت میں داخل کر دے گا خواہ اس کے عمل کیسے (معمولی) ہی کیوں نہ ہوں۔حضرت ابو موسی اشعری بھی تنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ کی لی ہم نے فرمایا: ”جب ایک آدمی اپنی لونڈی کی اچھی تربیت کرے، اسے اچھی تعلیم دے، پھر اسے آزاد کر کے اس سے نکاح کر لے تو اس کو دو ثواب ملتے ہیں اور جب ایک آدمی عیسی ابن مریم میام پر ایمان لائے ، پھر مجھ پر بھی ایمان لائے ، اسے بھی دو ثواب ملتے ہیں اور ایک غلام جب اپنے رب سے ڈرتا رہے ( گناہوں سے بچتا رہے ) اور اپنے آقا کی اطاعت کرتا رہے تو اسے بھی دو ثواب ملتے ہیں ( یعنی دگنا صحيح البخاري بدء الخلق، باب صفة إبليس وجنوده حديث: 3286 و صحیح مسلم الفضائل، باب فضائل عیسی علی حدیث :2366 صحيح البخاري، أحاديث الأنبياء باب قوله تعالى يا أهل الكتاب۔۔۔۔۔حديث : 3435 و صحيح مسلم الإيمان باب الدليل على أن من مات على التوحيد دخل الجنة قطعا حديث : 28 محکم دلائل وبراہین سے مزین متنوع و منفرد موضوعات پرمشتمل مفت آن لائن مکتبہ