قندیل ہدایت — Page 160
160 of 1460 شعار مستور ۸۲ الله الشكرينَ ، (۳/۱۴۳) اور محمد اس کے سوا کیا ہیں کہ اللہ کے رسول ہیں اور ان سے پہلے بھی اللہ کے رسول گزر چکے ہیں جو اپنے اپنے وقتوں میں ظاہر ہوئے اور را وحق کی دعوت دے کر دنیا سے (جوا۔چلے گئے) پھر اگر ایسا ہو کہ وہ وفات پائیں اور بہر حال انہیں ایک دن وفات پانا ہے، یا (فرض کرو) ایسا ہو کہ قتل ہو جائیں، تو کیا تم اُلٹے پاؤں راہ حق سے پھر جاؤ گے اور ان کے مرنے کے ساتھ ہی تمہاری حق پرستی بھی ختم ہو جائے گی ؟ اور جو کوئی راو حق سے اُلٹے پاؤں پھر جائے گا، تو وہ (اپنا ہی نقصان کرے گا خدا کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔اور جو لوگ شکر گزار ہیں یعنی نعمت حق کی قدر دانی کرنے والے ہیں، تو قریب ہے کہ خدا نہیں ان کا اجر عطا فرماتے! حضرت عیسی اسی قسم کا فقرہ حضرت مسیح کے متعلق بھی ارشاد ہوا ہے۔ما المُ ابْنُ مَرْيَمَ رَسُولُ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ وَ أُمَّةَ صِدِّيقَةٌ كَانَا يَأكُلَنِ الطَّعَامَ أنظُرُ كَيْفَ نُبَيِّنَ لَهُمُ الْأَيْتِ ثُمَّ انظُرُ آئی يُوتَكُونَ (۵/۷۵) مریم کا بیٹا مسیح اس کے سوا کچھ نہیں کہ اللہ کا ایک رسول ہے۔اس سے پہلے کتنے رسول اپنے وقتوں میں گذر چکے، اور اس کی ماں ابھی اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ صدیقہ تھی دینی بڑی ہی راستباز تھی۔یہ دونوں (تمام انسانوں کی طرح کھاتے پیتے تھے (یعنی خدا کی احتیاج رکھتے تھے اور ظاہر ہے کہ جسے زندہ رہنے کے لئے غذا کی احتیاج ہو، اس میں ما ورار بشریت کوئی بات کیونکر ہو سکتی ہے، ادیکھو کس طرح ہمر ان لوگوں کے لئے دلیلیں اضع کرتے ہیں اور پھر دیکھو کس طرف کو یہ لوگ پھرے ہوتے جا رہے ہیں ؟ کہ اتنی موٹی سی با بھی سمجھ نہیں سکتے ؟)۔جو شخص ان تصریحات پر خالی الذین ہو کر غور کرے گا وہ یقینا اس نتیجہ پر پہنچ جائے گا کہ نزول قرآن کے وقت وفات کے معنی حضرت معنی کے زمہ ہونے کی تائید قرآن کیم کی آیات سے نہیں ملتی بلک اس کے برعکس، آپ کے گذر جانے “ اور وفات پا جانے کی شہادت قرآن میں