قندیل ہدایت — Page 1316
1+91 1316 of 1460 يو حتا ٢١:١٩ 1091 ۳۶ یسوع نے کہا: میری بادشاہی اس دنیا کی نہیں۔اگر دنیا نہیں ؟ کیا تجھے پتا نہیں کہ مجھے اختیار ہے کہ تجھے چھوڑ دوں یا کی ہوتی تو میرے خادم جنگ کرتے اور مجھے یہودیوں کے ہاتھوں صلیب پر لٹکا دوں؟ گرفتار نہ ہونے دیتے۔لیکن ابھی میری بادشاہی یہاں کی نہیں۔یسوع نے جواب دیا: اگر یہ اختیار تجھے اوپر سے نہ ملا ہوتا ے پیلاطس نے کہا: تو کیا تو بادشاہ ہے؟ یسوع نے جواب تو تیرا مجھ پر کوئی اختیار نہ ہوتا۔مگر جس شخص نے مجھے تیرے حوالہ کیا دیا: یہ تو تیرا کہنا ہے کہ میں بادشاہ ہوں۔دراصل میں اس لیے پیدا ہے وہ اور بھی بڑے گناہ کا مرتکب ہوا ہے۔ہوا اور اس مقصد سے دنیا میں آیا کہ حق کی گواہی دوں۔جو اس کے بعد پیلاطس نے یسوع کو چھوڑ دینے کی کوشش کی لیکن یہودی چلا چلا کر کہنے لگے کہ اگر تو اس شخص کو چھوڑے گا تو ۳۸ حق دوست ہوتا ہے وہ میری سنتا ہے۔ویا اس نے پوچھا: حق کیا ہے؟ آپ کہتے ہی وہ پھر یہودیوں کو قیصر کا خیر خواہ نہیں۔اگر کوئی اپنے بادشاہ ہونے کا اعلان کرتا کے پاس گیا اور کہنے لگا: میں تو اُس شخص کو مجرم نہیں سمجھتا۔۳۹ لیکن ہے تو وہ قیصر کا مخالف سمجھا جاتا ہے۔تمہارے دستور کے مطابق میں فسح کے موقع پر تمہارے لیے ایک جب پیلاطس نے یہ سُنا تو اُس نے یسوع کو باہر بلایا قیدی کو رہاکر دیتا ہوں۔کیا تم چاہتے ہو کہ میں تمہارے لیے یہودیوں اور اپنے تخت عدالت پر بیٹھ گیا جو ایک سنگی چبوترے پر قائم تھا جسے آرامی زبان میں کہتا کہتے ہیں۔تم افسح کی تیاری کے ہفتے کا پہلا ۱۳ کے بادشاہ کو چھوڑ دوں؟ وہ پھر چلانے لگے نہیں نہیں، اسے نہیں، ہمارے لیے دن تھا اور شام ہونے والی تھی۔کے پینے کا پہلا بر ابا کو رہا کر دے۔براتا ایک ڈاکو تھا۔پیلاطس نے یہودیوں سے کہا: یہ رہا تمہارا بادشاہ۔تب پیلاطس نے یسوع کو لے جا کر کوڑے لگوائے ۱۵ لیکن وہ چلائے کہ اُسے یہاں سے دُور کر دے، دُور کر دے اور فوج کے ساہیوں نے کانوں کا تاج بنایا اور اس اور حکم دے کہ اسے صلیب پر لٹکایا جائے۔کے سر پر رکھا اور اُسے سُرخ رنگ کا چوغہ پہنا دیا۔وہ بار بار اُس پیلاطس نے کہا: کیا میں اُسے جو تمہارا بادشاہ ہے مصلوب کے سامنے جاتے اور کہتے تھے کہ اے یہودیوں کے بادشاہ! تجھے کردوں؟ آداب اور اُس کے منہ پر تھپڑ مارتے تھے۔سردار کاہنوں نے کہا: قیصر کے سوا ہمارا کوئی بادشاہ نہیں۔پیلاطس ایک بار پھر باہر آیا اور یہودیوں سے کہنے لگا: اس پر پیلاطس نے یسوع کو اُن کے حوالہ کر دیا تا کہ دیکھو میں اُسے تمہارے پاس باہر لا رہا ہوں تمہیں معلوم ہو کہ میں اُسے صلیب پر لٹکا دیا جائے۔کسی بنا پر بھی اُس پر فرد جرم عائد نہیں کرسکتا۔جب یسوع چنانچہ وہ اُسے اپنے قبضہ میں لے کر وہاں سے چلے گئے۔کانٹوں کا تاج سر پر رکھتے اور سُرخ چوغہ پہنے ہوئے باہر آیا تو خداوند یسوع کا صلیب پر لٹکایا جانا پیلاطس نے یہودیوں سے کہا: ” یہ رہاوہ آدمی۔“ 66 اینوع اپنی صلیب اٹھا کر کھو پڑھی کے مقام کی طرف ۱۸ سردار کا ہن اور اُن کے سپاہی اُسے دیکھتے ہی چلا نے روانہ ہوا جسے عبرانی زبان میں گلگتا کہتے ہیں۔^ وہاں انہوں لگے : اُسے صلیب دے! اُسے صلیب دے! نے یسوع کو اور اُس کے ساتھ دو اور آدمیوں کو بھی مصلوب کیا، لیکن پیلاطس نے جواب دیا تم ہی اسے لے جاؤ اور ایک کو یسوع کی ایک طرف اور دوسرے کو دُوسری طرف اور بیٹوع صلیب دو۔جہاں تک میرا تعلق ہے میں اسے مجرم ٹھہرانے کا کوئی کو بیچ میں۔سبب نہیں پاتا۔پیلاطس نے ایک کتبہ تیار کرا کر صلیب پر لگا دیا۔اُس پر ے یہودی اصرار کرنے لگے کہ ہم اہل شریعت ہیں اور ہماری یہ تحریر تھا: ” یسوع ناصری ، یہودیوں کا بادشاہ۔" شریعت کے مطابق وہ واجب القتل ہے کیونکہ اُس نے کہا ہے کہ وہ ۲۰ کئی یہودیوں نے یہ کتبہ پڑھا کیونکہ جس جگہ یسوع کو صلیب پر لٹکایا گیا تھا وہ شہر کے نزدیک ہی تھی اور کتبہ کی عبارت عبرانی، خدا کا بیٹا ہے۔Δ جب پیلاطس نے یہ سنا تو وہ اور بھی ڈرنے لگا اور واپس لاطینی اور یونانی تینوں زبانوں میں لکھی گئی تھی۔۲۱ یہودیوں کے محل میں چلا گیا۔وہاں اُس نے یشوع سے پوچھا: تو کہاں کا ہے؟ سردار کا ہنوں نے پیلاطس سے درخواست کی کہ یہودیوں کا بادشاہ لیکن یسوع نے کوئی جواب نہ دیا۔پیلاطس نے کہا: تو بولتا کیوں نہ لکھ بلکہ یہ کہ اس کا دعوی تھا کہ میں یہودیوں کا بادشاہ ہوں۔