قندیل ہدایت — Page 1253
1253 of 1460 ۵۳۵ جس طرح مرزا صاحب کی زندگی کے دو حصے ہیں ( براہین احمدیہ تک اور اس سے بعد اسی طرح مرزا صاحب سے میرے تعلق کے بھی دو حصے ہیں۔براہین احمدیہ تک اور براہین سے بعد۔براہین تک میں مرزا صاحب سے حسن ظن رکھتا تھا۔چنانچہ ایک دفعہ جب میری عمر کوئی ۱۷ ۱۸ سال کی تھی میں بشوق زیارت بٹالہ سے پا پیادہ تنہا قادیان گیا۔ان دنوں مرزا صاحب ایک معمولی مصنف کی حیثیت میں تھے مگر باوجود شوق اور محبت کے میں نے وہاں دیکھا مجھے خوب یاد ہے کہ میرے دل میں جو اُن کی بابت خیالات تھے وہ پہلی ملاقات میں مبدل ہو گئے جس کی صورت یہ ہوئی کہ میں اُن کے مکان پر دھوپ میں بیٹھا تھا وہ آئے اور آتے ہی بغیر اس کے کہ السلام علیکم کہیں یہ کہا تم کہاں سے آئے ہو کیا کام کرتے ہو۔میں ایک طالب علم علماء کا صحبت یافتہ اتنا جانتا تھا کہ آتے ہوئے السلام علیکم کہنا سنت ہے فوراً میرے دل میں آیا کہ انہوں نے مسنون طریق کی پرواہ نہیں کی کیا وجہ ہے مگر چونکہ حسن ظن غالب تھا اس لئے یہ وسوسہ دب کر رہ گیا۔جن دنوں آپ نے مسیحیت موعودہ کا دعویٰ کیا۔میں ابھی تحصیل علم سے فارغ نہیں ہوا تھا۔آخر بعد فراغت میں آیا تو مرزا صاحب کی کتابوں کا مطالعہ شروع کیا۔دل میں تڑپ تھی استخارے کئے دعائیں مانگیں خواب دیکھے جن کا نتیجہ یہ ہوا کہ مرزا صاحب نے مجھے اپنے مخالفوں میں سمجھ کر مجھ کو قادیان میں پہنچ کر گفتگو کرنے کی دعوت دی جس دعوت کے الفاظ یہ ہیں: مولوی ثناء اللہ اگر بچے ہیں تو قادیان میں آکر کسی پیشگوئی کو جھوٹی تو ثابت کریں اور ہر ایک پیشگوئی کے لئے ایک ایک سو روپیہ انعام دیا جائے گا۔اور آمد و اعجاز احمد ی ص ۱۱۔خزائن ج ۹ ا ص ۱۱۷ ۱۱۸) " رفت کا کرایہ علیحدہ یہ بھی لکھا: پاور ہے کہ رسالہ نزول المسیح میں ڈیڑھ سو پیشنگوئی میں نے لکھی ہے تو گویا جھوٹ ہونے کی حالت میں پندرہ ہزار روپیہ مولوی ثناء اللہ صاحب لے جائیں گے اور در بدر گدائی کرنے سے نجات ہوگی بلکہ ہم اور پیشگوئیاں بھی مع ثبوت اُن کے سامنے پیش کر دیں گے اور اسی وعدہ کے موافق پیشگوئی دیتے جائیں گے۔اس وقت ایک لاکھ سے زیادہ میری جماعت ہے۔نپس اگر میں مولوی صاحب موصوف کے لئے ایک ایک روپیہ بھی اپنے مریدوں سے لوں گا تب بھی ایک لاکھ روپیہ ہو جائے گا وہ سب اُن کی نذر ہو گا۔جس حالت میں دو دو آنہ کیلئے وہ در بدر خراب ہوتے پھرتے ہیں اور خدا کا قہر نازل ہے اور مردوں کے کفن لے اور وعظ کے پیسوں پر محض جھوٹ۔مرزا صاحب کا کوئی مرید ثا بت کے تو ایک ہزار رو پید انعام۔(مصنف) لے ۴۳